بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ملکیت دیئے بغیر متعین مدت تک کوئی چیز فروخت کرنا


سوال

ایک آدمی کئی چھتوں پر مشتمل بلڈنگ تعمیر کرتا ہےاور اس کے ہر چھت کو پانچ کروڑروپے کے عوض فروخت کرتا ہے ،اور ساتھ مشتری کو اس میں ہر قسم کے تصرف کا اختیار دیتا ہے لیکن یہ شرط لگاتا ہے کہ پانچ سال بعد مشتری یہ چھت  واپس بائع کو اس وقت کی قیمت (چاہے پانچ کروڑسےکم ہوا ہو یا زیادہ )پر فروخت کرے گا ۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ بائع مشتری کو چھت ملکیت پر نہیں دیتا بلکہ صرف اس میں تصرف کی اجازت دیتاہے ۔ اس طرح کی بیع اور تصرف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

 اگرکوئی شخص کسی پر کوئی چیز اس شرط کے ساتھ فروخت کرےکہ کچھ وقت بعد وہی چیزخریدار واپس اس فروخت کنندہ پر فروخت کرے گاتو فقہی اصطلاح میں اس کو بیع الوفا کہا جاتا ہے،بیع الوفا میں خریدار خریدی ہوئی چیز کا مالک نہیں بنتا بلکہ وہ چیزخریدار کے پاس رہن کے طور پر ہوتی ہےاور خریدارکی طرف سے دی گئی رقم فروخت کنندہ کے ذمےقرض شمار ہوتی ہے۔نیز مرہونہ چیز سے فائدہ لینا جائزنہیں ہے۔

صورت مسؤلہ میں کسی کا بلڈنگ کی چھت کو اس شرط کے ساتھ فروخت كرنا کہ پانچ سال بعد مشتری یہ چھت واپس بائع کو فروخت کرے گا اور بائع مشتری کو ملکیت بھی نہیں دیتا بلکہ صرف تصرف کی اجازت دیتا ہے،تویہ بیع الوفاء کی صورت ہے اس میں خریدار خریدی ہوئی چیز کا مالک نہیں بنتا اس لیے یہ حقیقت میں بیع نہیں کیونکہ بیع کا بنیادی مقصد انتقال ملکیت ہوتا ہے ،چنانچہ اس معاملہ میں خریدار کی طرف سے دی گئی رقم فروخت کنندہ کے ذمے قرض شمار ہوگی اور قرض کو مثل کے ساتھ واپس کرنا ضروری ہوتا ہےجب کہ یہاں پانچ سال بعد مارکیٹ ریٹ پر واپس کرنے کی شرط لگائی گئی ہے،  نیز خریدی ہوئی چیز خریدار کے پاس رہن کے طور پر ہوتی ہے اور مرہونہ چیز سے نفع لینا جائز نہیں جبکہ یہاں مرہونہ چیز سے وہ نفع لیتا ہے لہذا ان سب خرابیوں کی وجہ سے مذکورہ عقد شرعاجائزنہیں۔

 

وبيع الوفاء ذكرته هنا تبعا للدرر: صورته أن يبيعه العين بألف على أنه إذا رد عليه الثمن رد عليه العين۔(الدر المختار،کتاب البیوع،باب الصرف،ج:7،ص:545)

صدر في جامع الفصولين فقال رامزا لفتاوى النسفي: البيع الذي تعارفه أهل زماننا احتيالا للربا وسموه بيع الوفاء هو رهن في الحقيقة لا يملكه ولا ينتفع به إلا بإذن مالكہ۔(رد المحتار،کتاب البیوع،باب الصرف، مطلب في بيع الوفاء۔ج:7،ص:546)

وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن۔ (الدر المختار،كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:7،ص:395)

"العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لاللألفاظ والمباني ولذا يجري حكم الرهن في البيع بالوفاء"يفهم من هذه المادة أنه عند حصول العقد لا ينظر للألفاظ التي يستعملهاالعاقدان حين العقد بل إنما ينظر إلى مقاصدهم الحقيقة من الكلام الذي يلفظ به حين العقد لأن المقصودالحقيقي هوالمعنى وليس اللفظ ولاالصيغة۔۔۔مثال ذالك:بيع الوفاء،فاستعمال كلمة البيع فيه التي تتضمن تمليك المبيع للمشتري أثناءالعقد لايفيد التمليك لأنه لم يكن مقصودا من الفريقين بل المقصود به إنما هو تأمين دين المشتري المترتب في ذمة البائع وابقاءالمبيع تحت يدالمشتري لحين وفاءالدين ولذالك لم يخرج العقد عن كونه عقد رهن فيجري به حكم الرهن ولا يجري حكم البيع(دررالحكام شرح مجلة الأحكام،القواعد الكلية،المادة:3،ج:1،ص:21)


فتویٰ نمبر : 3518/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں