بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
مال حرام سے قربانی کرنا
سوال
کیا حرام پیسوں پر قربانی واجب ہوتی ہے؟ زید کے پاس حرام کے 2 لاکھ روپے موجود ہیں ۔اتنے پیسوں پر تو قربانی واجب ہوتی ہے ۔لیکن زید کے یہ پیسے حرام کی کمائی کے ہیں تو کیا ان پیسوں پر قربانی ہوگی ؟جیسے کسی کے پاس حرام کے پیسے ہوں تو زکاۃ واجب نہیں ہوتی تو کیا قربانی ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ مال حرام پر قربانی واجب نہیں ہوتی کیونکہ مالِ حرام کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر بلاعوض حاصل ہوا ہو تواسے مالک تک پہنچانا لازم ہے،اور اگر ممکن نہ ہو تو اسے بغیر نیت ثواب کے صدقہ کرنا واجب ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ حرام اور ناپاک مال سے صدقہ قبول نہیں فرماتے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی کے پاس صرف حرام مال ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں ۔ بلکہ اس پر لازم ہے کہ یہ رقم مالک کو پہنچا دے یا مالک معلوم نہ ہوسکے تو بلا نیتِ ثو اب صدقہ کردے۔
عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس، إن الله طيب لايقبل إلا طيباً، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: "يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحاً، إني بما تعملون عليم" (المؤمنون: 51) وقال:"يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم" (البقرة: 172)، ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك. (صحیح المسلم،کتاب الزکوة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها،ج:3،ص:85)
(قوله: كما لو كان الكل خبيثا) في القنية لو كان الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه. (ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الزکوة، باب زکوةالغنم،ج:3،ص:218)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں