بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

برقع کا کاروبار کرنا


سوال

 کالے برقع کا استعمال کیسا ہے؟کیا  برقع   کا کام کرنا  شرعاً جائز ہے اور میں نے ایک بندے کو دکان رینٹ پر دی ہوئی ہے وہ اس میں برقع اور دوپٹے چادروں کا کام کرتا ہے اور ساتھ میں وہ عبایہ  کا  بھی کام کرتا ہے اور ہمارے علاقے میں تقریبا زیادہ ترسادہ اور ڈھیلا استعمال ہوتا ہےاگر وہ اس میں دوسرے برقعے مثلاً ایسے برقعے جس میں جسم کے کپڑے نظر آتے ہوں وغیرہ فروخت کر لے ہو تو کیا  کرایہ وصول کرنا جائز ہے ؟اور اسی طرح ایڈوانس لینا بھی جائز ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  جو برقع چست نہ ہو اور عورت کا جسم اس  میں  مکمل طور پر چھپا ہوا ہو  تو اس کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں چاہے وہ جس رنگ کا بھی ہو  اس  طرح  برقع  کی خرید وفروخت جائز ہے اور  اس  کے بیجنے والے  دکاندار سے کرایہ لینا بھی جائز ہے ۔ نیز اگر کوئی دکاندار ایسے لباس یا برقعے فروخت کرے  جس میں خواتین کے ستر کے تقاضے پورے نہ ہوتے  ہوں  تو ایسے دکاندار سے بھی کرایہ لینے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔

 

(يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ). قال أبوبکر في هذه الایة: دلالة علی أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبیین.(أحکام القرآن، أبوبکرالجصاص،الأحزاب،ج:3،ص:382)  

وفي الذخيرة وغيرها: وإن كان على المرأة ثياب فلا بأس بأن يتأمل جسدها، وهذا إذا لم تكن ثيابها ملتزقة بحیث تصف ما تحتها،ولم یکن رقیقاً بحیث یصف ما تحته.(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الحظروالاباحة، فصل في النظروالمس،ج:9،ص:526)  

وإن كان عليها ثياب، فلا بأس بأن يتأمل جسدها؛ لأن نظره إلى ثيابها لا إلى جسدها، فهو كما لو كانت في بيت فنظر إلى جدارها، وهذا ‌إذا ‌لم ‌تكن ‌ثيابها ‌ملتزقة بها، بحيث تصف ما تحتها....، ولم يكن رقيقاً بحيث يصف ما تحته، وإن كانت بخلاف ذلك فينبغي له أن يغض بصره؛ لأن هذا الثوب من حيث إنه لا يسترها بمنزلة شبكة عليها، والأصل فيه ما روي عن عمر رضي الله عنه أنه قال: لا تلبسوا نساءكم الكتان والقباطي، فإنها إن تشف تصف.(المحیط البرهانی،کتاب الاستحسان والکراهیة،الفصل التاسع فیما...لایحل،ج:6،ص:68)


فتویٰ نمبر : 3529/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں