بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

بریرہ محمدی اور آمنہ یا امینہ محمدی نام رکھنے کا حکم


سوال

بریرہ محمدی اور آمنہ یا امینہ محمدی نام رکھنا کیسا ہے؟ اور کسی نام کے ساتھ محمدی کا اضافہ کرنا  کیسا ہے؟

جواب

ہر وہ نام جسے حضورﷺصحابہ کرامؓ  یا قرون ماضیہ میں علماوصلحاے اُمت  نے استعمال کیا ہو ایسا نام رکھنا جائز اور مستحسن ہے۔اس کے علاوہ جو نام ایسا ہو  کہ حضور ﷺ یا حضرات صحابہ کرامؓ یا علماوصلحاے امت نے اُسے استعمال نہ کیا ہو اور نہ ہی کوئی اچھے  معنی والا ہو تو اس کو تبدیل کر کے اچھا نام  رکھنا چاہیے،نیز اپنے نام کے ساتھ محمدی  کی نسبت لگانا فی نفسہ جائز ہے،شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق "بریرہ محمدی " ، " آمنہ محمدی" یا" امینہ محمدی" تینوں نام رکھنا درست ہے۔

 

البریر أوّل ما یظهر من ثمر الاراك وهو حلوه...والواحدة من جمیع ذلک بریرة.(لسان العرب، لامام ابن المنظور، ج:1، ص:373)

أَمِنَ اَمْناً وَاَمَاناً وَاَمَانَةً واَمَنًا واِمْنًاواَمَنَةً:مطمئن ہونا،بے خوف ہونا،  الأَمِیْنُ: دیانت دار، قابل اعتماد. (القاموس الوحید، ص:136، اداره اسلامیات لاهور)


فتویٰ نمبر : 5827/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں