بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

وطنِ اصلی کی تبدیلی


سوال

ہم اپنے آبائی علاقے سے شرعی مسافت پر واقع دوسرے شہر میں مستقل رہائش اختیار کر چکے ہیں مگر صرف خوشی و غم کے موقع پر کبھی کبھار آبائی علاقے جاتے ہیں سوال یہ ہے کہ ہم وہاں قصر پڑھیں گے یا پوری نماز؟

جواب

اگرکوئی شخص اپنےآبائی وطن سےاہل وعیال سمیت کسی دوسری جگہ منتقل ہوکرمستقل سکونت اختیارکرتاہے،اورآئندہ آبائی علاقے میں مستقلاً نہ رہنےکاعزم کرلیتاہے،تواس کاوطن اصلی باطل ہوگا،اوریہ دوسراعلاقہ اس کاوطن اصلی کہلائےگا،لہذااگرکہیں غمی،خوشی وغیرہ میں اپنے آبائی وطن جائےگا،توپندرہ دن سےکم ٹھہرنےکی صورت میں مسافرکےحکم میں شمار ہو کر قصر کرے گا،بشرطیکہ دونوں علاقوں کادرمیانی فاصلہ سفرشرعی کی مقدارمیں ہو، لیکن اگر کوئی شخص اہل وعیال کے ساتھ دوسری جگہ  میں مستقل سکونت پذیر ہو ، لیکن وطن اصلی میں اس کی زمین،جائیداد اور گھروغیرہ موجود ہوں،اوراس نے اس کو چھوڑنے کا عزم نہ کیا ہو، تو یہ دونوں جگہیں اس کے لیےوطن اصلی شمار ہوں گی، لہذادونوں جگہوں میں پوری نماز پڑھنے کا پابند ہوگا۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل نے آبائی علاقے کومستقل چھوڑنے کا ارادہ کیا ہو،تو  پندرہ دن سے کم قیام کی نیت سے جب بھی اپنے آبائی علاقہ جائے گا تو مسافر شمار ہوگا، لیکن اگر مستقل چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے اوروطن اصلی میں اس کی زمین،جائیداد اور گھروغیرہ موجود ہوں ،تو آبائی علاقہ بھی اس کا وطن اصلی رہےگا،لہذا وہ جب بھی آبائی علاقے میں جائے گا ، تو پوری نماز پڑھےگا۔

 

ثم الأوطان ثلاثة وطن أصلي وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها۔۔۔ فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير. وهو أن يتوطن الإنسان في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها من بلدته فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا له حتى لو دخل فيه مسافرا لا تصيرصلاته أربعا(بدائع الصّنائع،کتاب الصّلوۃ،باب صلوۃالمسافر، ج:1، ص:498)

 (الوطن الأصلي ) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(یبطل بمثلہ)إذا لم يبق له بالأول أهل فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما.وقال الشامی تحتہ: أي وإن بقي له فيه عقار. قال في النهر : ولو نقل أهله ومتاعه وله دور في البلد لا تبقى وطنا له وقيل تبقى كذا في المحيط وغيره(الدّرالمختارمع ردّالمحتار، کتاب الصّلوۃ، باب صلوۃالمسافر، ج:2، ص:614)

ويبطل الوطن الأصلي بمثله۔۔۔)وفي المجتبى نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر۔ (البحرالرائق،كتاب الصلوة،باب المسافر،ج:2، ص:239)


فتویٰ نمبر : 10012/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں