بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

دوران وضو زخم پر خون ظاہر ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ لگے پانی کا حکم


سوال

ہتھیلی پر چھالے پڑے، پھر اُس پر چھوٹا سا زخم بنا، گندم کے بڑے دانے جتنا۔ اب میں وضو کے دوران اُنھیں ہاتھوں میں پانی اُٹھا کر چہرہ وغیرہ دھوتا تھا، پھر تولیے سے بدن اور اُسی ہاتھ کو خُشک کرتا تھا۔ اب کبھی کبھی اُسکے بعد مُجھے اُس حصے سے تھوڑا خون نکلتا ہوا نظر آتا تو کبھی تھوڑا پانی وہاں پر نظر آتا۔ ۱. کیا وہ پانی ناپاک ہے جو اُس زخم کے اُوپر تھا؟ اب مجھے نہیں پتہ کہ وضو کے دوران تو خون نہیں نکل رہا تھا، جس سے میرا چہرہ ناپاک ہوگیا ہوگا۔ یا تولیے سے بے غوری سے ہاتھ خُشک کرتے ہوئے میں نے زخم سے خون بھی خُشک کیا ہو یا وہ زخم کا پانی بھی خُشک کیا ہو، جس سے تولیہ ناپاک ہوگیا ہوگا۔ ۲. کیا تولیہ ناپاک ہے، کیا وہ گیلا ہاتھ میں نے جن ٹھوس اشیاء اور کپڑوں کو لگایا وہ بھی ناپاک ہے؟

جواب

جب  خون زخم کے سرے تک آجائے لیکن ابھی تک بہا نہ ہو تو وضونہیں ٹوٹتا ،اسی طرح  اگر کسی چیز سے خشک کیا جائے اور خون اتنا  ہو کہ اگر خشک نہ کیا جاتا تو نہ بہتا ،تو وضو نہیں ٹوٹتا  نیزاگر اس سے پانی لگ جائے تو پاک ہو گا کیونکہ جو چیز حدث نہیں ہوتا وہ نجس بھی نہیں ہوتا  ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر  ہتھیلی پر خون ظاہر ہو  لیکن بہنے والا نہ ہو تو پانی  لگنے سے  وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا،لہذا اگر اس پانی سے چہرہ دھو لے تو پاک  ہوگا ،اور  وہ چیز بھی پاک ہوگی جس کے ساتھ یہ  پانی لگ جائے۔

 

(ومنها) ما يخرج من غير السبيلين ويسيل إلى ما يظهر من الدم والقيح والصديد والماء لعلة وحد السيلان أن يعلو فينحدر عن رأس الجرح ...الدم إذا علا على رأس الجرح لا ينقض الوضوء وإن أخذ أكثر من رأس الجرح. كذا في الظهيرية والفتوى على أنه لا ينقض وضوءه في جنس هذه المسائل ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل إذا خرج من الجرح دم قليل فمسحه ثم خرج أيضا ومسحه فإن كان الدم بحال لو ترك ما قد مسح منه سال انتقض وضوءه وإن كان لا يسيل لا ينتقض وضوءه وكذلك إن ألقى عليه رمادا أو ترابا ثم ظهر ثانيا وتربه ثم وثم فهو كذلك يجمع كله. كذا في الذخيرةكذا في المحيط.(الفتاوی الهندية،كتاب الطهارة،ج:1،ص:61)

وعند محمد رحمه الله يعتبر اتحاد السبب وهو الغثيان ، ثم ما لا يكون حدثا لا يكون نجسا ، يروى ذلك عن أبي يوسف رحمه الله ، وهو الصحيح لأنه ليس بنجس حكما حيث لم تنتقض به الطهارة  .(فتح القديركتاب الطهارة،فصل في نواقض الوضوء،ص:46،ج:1)


فتویٰ نمبر : 10045/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں