بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

دوسرے ملک میں رہنے والےکا اپنے ملک میں قربانی کرنا


سوال

میرے والد صاحب کا دوست ہے جو انگلینڈ میں رہتا ہے ،وہ قربانی یہاں پاکستان میں ہمارے والد صاحب کو وکیل بنا کر کرنا چاہتا ہے ،لیکن انگلینڈ اور پاکستان کے اوقات میں فرق ہےاب ہم کس ملک کے اوقات کا لحاظ رکھتے ہوئے قربانی کریں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر آدمی خود کسی اور ملک میں ہو اور قربانی کے لیے دوسرے ملک میں کسی کو وکیل بنائے تو اس صورت میں قربانی کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک میں عید ہو، اگر وکیل یا مؤکل میں سے کسی ایک کی جگہ عید کا دن نہ ہو تو قربانی درست نہ ہوگی۔

صورت مسؤلہ میں جو شخص انگلینڈ میں مقیم ہے اس کا پاکستان میں کسی کووکیل بنا کر قربانی کروانا ٹھیک ہے البتہ قربانی ایسے دن کی جائے کہ جس دن دونوں ممالک میں عید ہو،نیزچونکہ انگلینڈ کا وقت پاکستان کے وقت سے پانچ گھنٹے پیچھے ہے اس لیے پاکستان میں اس کی قربانی اس وقت کی جائے جب انگلینڈ میں صبح صادق ہو جائے۔

 

وأما ‌وقت ‌الوجوب ‌فأيام ‌النحر فلا تجب قبل دخول الوقت؛ لأن الواجبات المؤقتة لا تجب قبل أوقاتها كالصلاة والصوم ونحوهما، وأيام النحر ثلاثة: يوم الأضحى - وهو اليوم العاشر من ذي الحجة - والحادي عشر، والثاني عشر؛ وذلك بعد طلوع الفجر من اليوم الأول إلى غروب الشمس من الثاني عشر۔ (بدائع الصنائع،كتاب التضحية،فصل في وقت الوجوب،ج:6،ص:285)

وإن كان الرجل في مصر، وأهله في مصر آخر، فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة، فقال: ينبغي لهم أن لايضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة -۔ (بدائع الصنائع،كتاب التضحية،فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية،ج:6،ص:311)


فتویٰ نمبر : 9976/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں