بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

خلع کے بعد مہر کا مطالبہ کرنا


سوال

 اگر زوجین ( میاں بیوی )آپس کی  رضامندی سے خلع کرنا چاہیں اور بدل خلع میں بیوی اپنا مہر معاف کردے  تو لڑکی کے خاندان والے لڑکے سے مہر کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

شریعت کی روسے خلع معتبر ہونے کے لئےزوجین  کی رضامندی  ضروری ہے، دونوں کی رضامندی سے  خلع میں جو عوض  طے ہو جائے بیوی کے ذمے وہ لازم ہوتا ہے ،اگر خلع حق  مہر کے عوض ہو اور شوہر نے اب تک ادا نہ کیا ہو تو مہر  شوہر کے ذمے سے  ساقط ہو جائے گا  لہذا اس  پر مہر ادا کرنا  لازم نہیں ہوگا اور اگر شوہر نے مہر ادا کیا ہو  تو بیوی پر  مہر  واپس  کرنا لازم ہوگا۔

صورت  مسؤلہ کے مطابق  اگر بیوی نے شوہر کی رضامندی سے خلع لیا ہو  اور بیوی نے بدل خلع میں اپنا حق مہر معاف کیا ہو تو ایسی صورت میں لڑکی کے خاندان والوں کا شوہر سے مہر کا  مطالبہ کرنا شرعا جائز  نہیں۔

 

إذا تشاق الزوجان،وخافا أن لا يقيما حدود الله،فلا بأس بأن تفتديَ نفسها منه بمال يخلعها به. (الهداية، باب الخلع،ج:2،ص:413)


فتویٰ نمبر : 6914/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں