بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

مدرس کا درمیان سال تدریس چھوڑنے پر تنخواہ کا استحقاق


سوال

اگر مہتمم سال کےدرمیان میں کسی مدرس کو نکال دے،یا مدرس خود چھوڑ کر چلا جائے ،تو کیامدرس  پورے سال کی  تنخواہ کا مستحق ہوگا؟

جواب

 جب متعاقدین عقد اجارہ میں  ایک خاص مدت پر متفق ہوکر عقد طے کر لیں ،تو پھر ان میں سے کسی کو بلا عذر شرعی عقد فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ مدارس دینیہ میں عام طور پر مہتمم اور مدرس کے درمیان طے ہونے والا عقد "عقد مسانہہ " ہوتاہے،اس لیے  بغیر کسی شرعی عذر کے  سال پورا ہونے سے پہلے عقد ختم کرنے کا اختیار نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر مدرس  کوئی ایسی کوتاہی   کا مرتکب ہوجائے ،جس کی وجہ سے مہتمم کے لیے عقد جاری رکھنا مشکل ہو،تو اسے عقد فسخ کرنے کا اختیار  ہوگا۔اسی طرح اگر کوئی مدرس کسی مجبوری کی وجہ سے عقد جاری نہ رکھ سکے تو  اس کے لیے بھی عقد فسخ کرنا جائز ہوگا ۔ ان دونوں صورتوں میں عقد فسخ  ہونے کے بعد مدرس صرف گزرے ہوئے ایام کی تنخواہ کا مستحق ہوگا ،پورے سال  کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہوگا ۔ تاہم  اگر مدرس میں کوئی کوتاہی نہ  ہو تو  مہتمم کے لیے  سال کے درمیان اس کو فارغ کرنا جائز نہیں ،اور اگر فارغ  کردیا تو  پورے سال کی تنخواہ کا مستحق  متصور ہوگا ۔

 

الإجارة تنقض بالأعذار عندنا.(الفتاوى الهندىة ، كتاب الإجارة، الباب التاسع عشر في فسخ الإجارة بالعذر،ج:4،ص: 458)

(قوله كمرض العبد) في البزازية: ‌استأجر ‌عبدا ‌للخدمة فمرض العبد، إن كان يعمل دون العمل الأول له خيار الرد، فإن لم يرد ۔ ۔ ۔ وفي الولوالجية: وكذا لو أبق فهو عذر أو كان سارقا؛ لأنها توجب نقصانا في الخدمة.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة،باب فسخ الإجارة،ج:9،ص:107۔108)

الأجر لا يملك بنفس العقد ولا يجب تسليمه به عندنا عينا كان أو دينا، كذا في الكافي، وهكذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى في الجامع في كتاب التحري، وعامة المشايخ رحمهم الله تعالى على أنه الصحيح، هكذا في النهاية.ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه.(الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة،الباب الثاني في بيان أنه متى تجب الأجرة و ما يتعلق به من الملك وغيره.ج:4،ص:412)


فتویٰ نمبر : 3514/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں