بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

مدرس کا تعلیمی اوقات میں عمرہ ،حج یا تبلیغ کے لیے جانے کی صورت میں تنخواہ کا حکم


سوال

اگر کوئی  مدرس تعلیمی اوقات میں عمرہ ،حج یا تبلیغ کے لیے چلا جائے،تو کیا مدرسہ کی طرف سے تنخواہ کا مستحق ہوگا  یا نہیں ؟نیز بعض مدارس میں اساتذہ سال  تبلیغ کے لیے جاتے ہیں تو مدرسہ کی طرف سے آدھی تنخواہ دی جاتی ہے،کیا یہ جائز ہے؟

جواب

مدرس کا  ادارے کے ساتھ اجیر خاص کا تعلق ہے۔اجیر خاص مدت مقررہ میں حاضر رہنے سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔  تاہم مدرسے کے  ضابطے اور قانوں یا مدارس کے عرف کے مطابق ایام رخصت کی تنخواہ کا مستحق   ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر مدرسہ کے ضابطہ اور قانون  میں یہ بات ہو کہ  کوئی مدرس تعلیمی اوقات میں عمرہ ،حج یا تبلیغ کے لیے چلا جائے تو ایام رخصت کی تنخواہ  دی جائے گی، تو  پھر مدرسہ کی اجازت سے جانے کی صورت میں تنخواہ کا   مستحق ہوگا۔اور اگر مدرسہ کا ضابطہ تنخواہ نہ دینے کا ہو،پھر بھی  مدرس چلا جائے تو تنخواہ کا مستحق نہیں ہوگا۔ البتہ  اگر کسی مدرسہ کااپنا  کوئی مستقل  ضابطہ نہ ہو، تو علاقے کے دیگر مدارس کے  ضابطے اور  عرف کا اعتبار ہوگا۔

 

والأجيرالخاص:الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة.(الهداية،كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:3 ،ص:312)

فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاء والجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ، وكذا لو بطل في يوم غير معتاد ‌لتحرير ‌درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الوقف،ج:4،ص:376)


فتویٰ نمبر : 3515/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں