بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

سورۃ الضحی میں " عَآئِلا "کی جگہ" غآئِلا " پڑھ لینے سے نماز کا حکم


سوال

اگر کسی شخص نے سورۃ الضحی کی آیت :وَوَجَدَكَ عَآئِلا فَأَغۡنَىٰ میں "عَآئِلا" کی جگہ" غآئِلا"پڑھ لیا،تو کیا اس کی نماز فاسد ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

اگر نماز میں قراءت کے دوران ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنے سے ایسا کلمہ بن جائے ،جو قرآن مجید میں دوسری جگہ موجود  نہ ہولیکن  دونوں حروف کا مخرج ایک ہو یا دونوں حروف قریب المخرج ہوں  ، تو  مفتی بہ قول کے مطابق نماز فاسد نہیں ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے نماز میں دوران قراءت سورۃ الضحی کی آیت :وَوَجَدَكَ عَآئِلا فَأَغۡنَىٰ میں "عَآئِلا" کی جگہ" غآئِلا"پڑھ لیا، توچونکہ  "ع"اور" غ" قریب المخرج  ہیں ،اس لیے نماز فاسد نہیں ہوگی ۔

‌

والحاصل ‌من ‌الجواب في جنس هذه المسائل أن الكلمة مع حرف الدال إذا كانت لا توجد في القرآن، والحرفان من مخرج واحد أو بينهما قرب المخرج، ويجوز إبدال أحد الحرفين عن الآخر لا تفسد صلاته عند بعض المشايخ، وعليه الفتوى.وعن هذا قلنا إذا قرأ في صلاته {فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا} تكهر بالكاف لا تفسد صلاته على ما اختاره المشايخ؛ لأن جماعة العرب يبدلون الكاف عن القاف ومخرجها واحد، والمعنى في ذلك كلّه أن الحرفين إذا كانا من مخرج واحد كان بينهما قرب المخرج، وأحدهما يبدل عن الآخر كان ذكر هذا الحرف كذكر ذلك الحرف، فيكون قرآناً معنى، فلا يوجب فساد الصلاة. (المحیط البرهاني، كتاب الصلاة،الفصل الرابع كيفيتها،ج:1،ص:319)


فتویٰ نمبر : 9974/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں