بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد کا کچھ حصہ تقسیم کرنا/خواتین کو میراث سے محروم کرنا/حصہ میراث سے براءت


سوال

(1)اگر کوئی شخص اپنی اولاد کو جائیداد کا کچھ حصہ ہبہ کرے تو شرعا اس کا کیا حکم ہے  اور اس کی موت کے بعد اس حصہ میں میراث جاری ہوگی یا نہیں؟(2)  بھائیوں کا میراث کو آپس میں تقسیم کرنا اور خواتین کو میراث سے محروم کرناکیا شرعا یہ جائزہے؟(3) اگر کوئی وارث بقیہ ورثا میں سے کسی ایک وارث کو  کہہ دے کہ میرا میراث میں جتنا حصہ بنتا ہے  وہ میں نے آپ کو بخش دیا ہے شرعا اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے ہر شخص کو اپنی  مملوکہ جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرفات کرنے کا حق حاصل ہے اگر کوئی شخص زندگی میں  اپنی جائیداد سے کچھ حصہ اپنی اولاد کو دے کر ان کے قبضہ میں دے  تو  یہ اس کی طرف سے ہبہ شمار ہوگا اور اس  کے مرنے کے بعد اس  حصہ میں میراث کے احکام جاری نہ ہوں گے، البتہ  اگر قبضہ دئے بغیر صرف اس کے نام کیا ہو تو اس سےہبہ تام نہیں ہوتا یہ حصہ  اور جو  حصہ زندگی میں مورث کے قبضہ میں تھا وہ سب ترکہ شمار ہوگا اور اس کو شرعی طریقے سے تقسیم کیا جائے گا، نیز  وارث کا اپنے حصہ کو قبضہ کرنے سے پہلے  کسی کو ہبہ کرنا یا  اس سے براءت اختیار کرنا  معتبر نہیں۔

1۔  اگرکسی نے   اپنی اولاد کوجائیداد کا کچھ حصہ  ہبہ کیا ہواور اولاد نے اس پر قبضہ کیا ہوتو یہ اس کی ملکیت سے نکل کر اولاد کی ملکیت میں داخل ہوگی اور اس میں میراث کے احکام جاری نہ ہوں گے۔

2 شریعت نے  ہر ایک وارث کا حصہ متعین کیا ہے جس طرح اس میں بیٹوں کا حصہ بنتاہے اسی طرح اس میں بیٹیوں کا بھی حصہ ہے،  لہذا بھائیوں کا میراث کو آپس میں تقسیم کرنا اور بہنوں  کو میراث سے محروم کرنا جائز نہیں۔

3۔اگر کوئی وارث میراث سے حصہ  لینے کی بجائے کسی دوسرے وارث کو ہبہ کرنا چاہے اور متروکہ جائیداد قابل تقسیم  ہو تو اس کا  طریقہ یہ ہے کہ پہلے جائیداد کو تقسیم کیا جائے،اور ہر وارث اپنے حصہ پر قبضہ کرے، پھرجو جس کو اپنا حصہ ہبہ کرناچاہے تو کر سکتا ہے، لیکن تقسیم اور قبضہ سے پہلے قابل تقسیم ترکہ کا ہبہ کرنا درست نہیں۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَلا ‌تَأْكُلُوا ‌أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ﴾. )البقرة: (188

الفروض المقدرة في کتاب الله تعالى... وأصحاب هذه السهام اثناعشر نفرا: أربعة من الرجال، وهم الأب، والجدالصحيح: وهو أب الأب وإن علا، والأخ لأم، و الزوج. وثمان من النساء، وهن الزوجة، و البنت، وبنت الابن وإن سفلت، والأخت لأب وأم، والأخت لأب، والأخت لأم، والجدة الصحيحة: وهي التي لا يدخل في نسبتها إلى الميت جد فاسد. (السراجي في الميراث، باب معرفةالفروض ومستحقيها، ص:13)

‌البراءة ‌عن ‌الأعيان لا تصح. ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلح،ج: 8، ص: 411)

وأما شرائطها....ومنها: أن يكون الموهوب مقبوضا، حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض، وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة، وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولايكون متصلا ولا مشغولا بغيرالموهوب....ومنها: أن يكون مملوكا للواهب،  فلا تجوز هبة مال الغير بغير إذنه لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك للواهب. ( الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الأول: في تفسيير الهبة، وركنها، وشرائطها، ج:4، ص:395)

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوّى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى.(الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب السادس: في الهبة للصغير،ج:4، ص:416)


فتویٰ نمبر : 5794/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں