بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 29/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹوں کا باپ کی موجودگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا مطالبہ اورزندگی میں اولاد پر مال تقسیم کرنے کا طریقہ


سوال

اگر سب بیٹےباپ کی موجودگی میں باپ  کی جائیداد کوآپس میں تقسیم  کرنے اور اپني بہنوں کو حصہ نہ دینے کا مطالبہ کریں توکیااس طرح تقسیم کرنا درست ہے؟اگر درست نہیں تو شرعی تقسیم کی صورت کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں ہر شخص کو  ذاتی مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرفات کا مکمل  طور پر اختیار حاصل ہے ۔ولاد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ  حالت حیات میں تقسيم کا مطالبہ کریں ،تاہم اگر کوئی شخص زندگی میں اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال اولاد میں تقسیم کرنا چاہے ،تو شرعا  یہ ہبہ کے حکم میں داخل ہے ، اور ہبہ کے معاملے میں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ،چنانچہ باپ انصاف سے کام لیکر  تمام اولاد (چاہے بیٹے ہوں یا بیٹیاں) میں برابر تقسیم کرے ، تاہم اگر میراث کے اصول پر لڑکے کو لڑکی کا دگنا حصہ دے تو اس کی بھی گنجائش ہے لیکن بیٹیوں کو بالکل محروم کرنا یا بہت معمولی حصہ دینا جائز نہیں، ایسا کرنے سے وہ سخت گناہ گار ہوگا،البتہ اگر کسی کو اس کی خدمت، دینداری یا غربت کی وجہ سے کچھ زیادہ حصہ دیدے تو اس کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ  میں بیٹوںکا باپ کی موجودگی میں اس سےجائیداد کوتقسیم  کرنےاور بہنوں کو حصہ نہ دینے کا مطالبہ کرنا درست نہیں،تاہم اگرباپ  اپنی خوشی سےاپنی اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہے  تو بہتر یہی ہےکہ بیٹوں اور بیٹیوں میں برابر تقسیم   کرے یابیٹوں کو بیٹیوں کی بنسبت دگنا دینے کی بھی  شرعاً گنجائش ہے۔

 

"كل يتصرف فى ملكه كيف شاء ۔۔۔۔۔لا يمنع احد من التصرف فى ملکه ابدا الا اذا اضر به ضررا فاحشا "۔(شرح المجلة لسليم رستم باز،ج:3، ص:210،201، المادۃ؛ 1197،1192)

"کرہ تفضیل بعض الأولاد علی البعض فی الهبۃ حالۃ الصحۃ إلا لزیادۃ فضل لہ فی الدین ، وإن وهب مالہ کلہ لواحد جاز قضاء وهو آثم ".(البحرالرائق، کتاب الهبۃ ، ج:7، ص:288)

"وَيَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْدِلَ بين أَوْلَادِهِ في النَّحْلَى لِقَوْلِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى ﴿ إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ ﴾۔ (بدائع الصنائع، کتاب الھبۃ، ج:8، ص:113)

"وَلَوْ وَهَبَ شَيْئًا لِأَوْلَادِهِ فِي الصِّحَّةِ، وَأَرَادَ تَفْضِيلَ الْبَعْضِ عَلَى الْبَعْضِ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ لَا بَأْسَ بِهِ إذَا كَانَ التَّفْضِيلُ لِزِيَادَةِ فَضْلٍ فِي الدِّينِ وَإِنْ كَانُوا سَوَاءً يُكْرَهُ وَرَوَى الْمُعَلَّى عَنْ أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ إذَا لَمْ يَقْصِدْ الْإِضْرَارَ وَإِلَّا سَوَّى بَيْنَهُمْ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى"۔ (ردالمحتارعلی درالمختار، مطلب مہم فی قول الواقف علی الفریضۃ الشرعیۃ، ج:6، ص:266)

"وفي الْخُلَاصَةِ الْمُخْتَارُ التَّسْوِيَةُ بين الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى في الْهِبَةِ" ۔ (البحر الرائق، کتاب الہبۃ، ج:7، ص:490)

"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم ۔۔۔( قوله وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف: من أن ‌التنصيف ‌بين ‌الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد"۔(ردالمحتار علی الدر المختار، كتاب الهبة، ج:5، ص:696)


فتویٰ نمبر : 5821/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں