بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بائع کا اسٹامپ پیپر کی فیس لینا


سوال

بائع قسط وار بیع کرتے ہیں اور ان قسطوں کے لیے ایک اسٹامپ پیپر بائع لکھتے ہیں اور اس سٹاپ پیپر کی مشتری سے فیس لیتے ہیں، کیا یہ بائع کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ادھا ر معاملہ میں  ثمن کی وصولیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضمانت کے طور پر اسٹامپ پیپرلکھنے اورمشتری  سےدستخط وغیرہ کراناجائز ہے، البتہ اس سلسلے میں جو اخراجا ت لازم آتے ہیں اگرمشتری ان خرچوں کو برداشت کرنے پر راضی ومتفق ہو تو بائع کے لیے مشتری سے ان اخراجا ت کو وصول کرنا  جائز ہو گا، تا ہم  بغیر رضا مندی کے مشتری سےاس کی  فیس لینا  جائز نہیں کیونکہ ادھار معاملہ کی توثیق  بذریعہ خط وکتابت بائع کی ضرورت ہے، چنانچہ وہ ہی  اس کے اخراجات برداشت کرے گا۔

 

وفي جامع الفصولين :أن أجرةالصكاك على من يأخذ الصك،اعتبارا بالعرف۔" (شرح المجلة،كتاب البيوع، المادة: 292، ج: 1، ص: 222/223)

 "لا يجوز لأحد من المسلمين أخذمال أحد بغير سبب شرعي" ۔ (البحرالرائق فصل في التعزير ج: 5 ، ص: 44)


فتویٰ نمبر : 3534/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں