بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
(1)حاجی عبد الرؤوف کا انتقال ہوا ،اس کے ورثاء میں چار(4) بیٹے نعمت اللہ،راحت اللہ،طارق اللہ اور نجیب اللہ تھے۔اور چار (4)بیٹیاں تعارف سلطانہ،اطہر،ریحانہ اور پروین ۔پھر بیٹا نعمت اللہ کا انتقال ہوا ،اس کے ورثاء میں پانچ بیٹے رحیم اللہ ،ہدایت اللہ ،انعام اللہ ،اکرام اللہ ،اور شریف اللہ جبکہ ایک بیٹی شازیہ۔پھر بیٹے راحت اللہ کا انتقال ہوا ،اس کے ورثاء میں بیوہ ریاست اور ایک بیٹی اقرء ہے اور دو بھائی طارق اللہ اور نجیب اللہ اور چار بہنیں تعارف سلطانہ ،اطہر،ریحانہ اور پروین ۔عبد الرؤوف مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثاء میں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟
(2) نیز حاجی عبد الرؤوف مرحوم نے اپنے یک منزلہ مکان جو کہ کم وبیش (ساڑھے آٹھ 8.5 تا نو 9 مرلہ)ہے ،اس میں سے تین مرلہ حق مہر کی رجسٹری اپنی بہو زوجہ طارق اللہ کو دی ہے،جس میں کم وبیش دو مرلہ اس کے پاس ہے اور کم وبیش ایک مرلہ اس مکان میں باقی ہے ۔
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ جو جگہ مرحوم عبد الرؤوف نے اپنی بہو کو دی ہے کیا اس کا بقیہ ایک مرلہ اس کو ملے گا؟اور طارق اللہ کو اپنے والد کے جائیداد میں حصہ ملے گا یا نہیں ؟
جواب
میــــــــ(عبد الرؤف)ـــــــــ(4224)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی
نعمت اللہ راحت اللہ طارق اللہ نجیب اللہ تعارف سلطانہ اطہر ریحانہ پروین
704 704 352 352 352 352
میــــــــــــــــــــــــــ(نعمت اللہ)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی
رحیم اللہ ہدایت اللہ انعام اللہ اکرام اللہ شریف اللہ شازیہ
128 128 128 128 128 64
میــــــــــــــــــــــــ(راحت اللہ)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوہ بیٹی بھائی بھائی بہن بہن بہن بہن
ریاست اقراء طارق اللہ نجیب اللہ تعارف سلطانہ اطہر ریحانہ پروین
88 352 66 66 33 33 33 33
الاحیـــــــــ(4224)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔
طارق اللہ نجیب اللہ تعارف سلطانہ اطہر ریحانہ پروین
770 770 385 385 385 385
۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔
رحیم اللہ انعام اللہ ہدایت اللہ اکرام اللہ شریف اللہ شازیہ
128 128 128 128 128 64
۔۔ــــــــــــــــــــاء
ریاست اقراء
88 352
بشرط صدق وثبوت اگر حاجی عبد الرؤوف مرحوم کے مذکورہ بالا ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو اور اموات بھی درجہ بالا ترتیب سے ہوں ،تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ (4224)حصوں میں تقسیم ہو کر طارق اللہ اور نجیب اللہ میں سے ہر ایک کو770/4224حصے ،تعارف سلطانہ ،اطہر ،ریحانہ اور پروین میں سے ہر ایک کو385/4224حصے،رحیم اللہ،انعام اللہ ،ہدایت اللہ ،اکرام اللہ اور شریف اللہ میں سے ہر ایک کو128/4224حصے ،شازیہ کو64/4224حصے، ریاست (زوجہ راحت اللہ) کو88/4224،اور اقراء کو352/4224 حصے ملیں گے۔
2۔از روئے شریعت مہر کی ادائیگی شوہر کی ذمہ داری ہے لیکن اگر سسر نے اپنی بہو کو مہر ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کر کے اس کے نام زمین یا مکان کچھ حصہ لکھاہو، تو ایسی صورت میں قبضہ دیے بغیر بھی اس حصہ پر ملکیت بہو کو حاصل ہوگی ۔نیز سسر کا بہو کو مہرمیں زمین یا مکان کا حصہ لکھ دینے سے ،بیٹا باپ کی میراث سے محروم نہیں ہوگا ۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیان کردہ تفصیلات کے مطابق اگروقعتاً سسر نے مکان کا متعین حصہ بہو کےمہر میں لکھا ہو تو وہ اسی کی ملکیت ہوگی،اور اس کی وجہ سے اس کے شوہر کا اپنے والد کی میراث سے حصہ کم نہیں ہوگا ۔
قال الله تعالى: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ. (النساء:١١)
وقال: فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ. (النساء:١٢)
إذا أعطى الأب أرضا في مهر امرأته ثم مات الأب قبل قبض المرأة لا تكون الأرض لها لأنها هبة من الأب لم تتم بالتسليم فإن ضمن المهر وأدى الأرض عنه ثم مات قبل التسليم كانت الأرض للمرأة لأنه بيع فلا يبطل بالموت ۔(البحر الرائق ،كتاب النكاح ،باب المهر تحت قوله:وصح ضمان الولي المهر ،ج:3،ص:307)
ولو أعطى ضيعة بمهر امرأة ابنه ولم تقبضها حتى مات الأب فباعتها المرأة لم يصح إلا إذا ضمن الأب المهر ثم أعطى الضيعة به فحينئذ لا حاجة إلى القبض۔(رد المحتار ،كتاب النكاح ،باب المهر ،قبيل مطلب في منع الزوجة نفسها لقبض المهر، ج:4،ص:290)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں