بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

منگیتر کے غائب ہونے کی صورت میں دوسری جگہ نکاح کرنے کا حکم


سوال

ایک لڑکی کی منگنی (کویدن) آج سے آٹھ سال قبل ایک لڑکے سے ہوئی ،لیکن نکاح نہیں ہوا تھا ۔منگنی کے کچھ عرصے بعد وہ لڑکا غائب ہوگیا ،اب تک اس کی زندگی  یا موت کا کوئی علم نہیں ۔کیا اب اس لڑکی کا نکاح دوسری جگہ  کروانا  شرعاً  جائز ہے ؟ جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ  دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب  و قبول کے الفاظ  کہنے سے نکاح  منعقد ہوجاتا ہے  ۔ چنانچہ اگر  لڑکا اور لڑکی  کے والدین  یا دیگر اولیاء   صرف  نکاح کے لیے رضا مندی ظاہر کریں لیکن باقاعدہ ایجاب وقبول نہ ہو ،تو یہ محض وعدہ نکاح ہوتا ہے  ، جسے عرف میں منگنی(کویدن) سے تعبیر کیا جاتا ہے  ۔چونکہ یہ نکاح نہیں ہوتا اس لیے  اگر کسی وجہ سے منگنی توڑنا پڑے تو  طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی ۔

 صورت ِ مسئولہ میں اگر واقعی لڑکی  کی صرف منگنی ہوئی ہوتو یہ محض وعدہِ نکاح ہے اور وعدہ نکاح سے نکاح منعقد نہیں ہوتا  ،لہذا اس  صورت میں لڑکی  کا کسی  دوسری جگہ منگنی یا نکاح کروانا جائز ہوگا ۔

 

النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي...ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين،عاقلين،مسلمين،رجلين أو رجل،وامرأتين.(الهداية،كتاب النكاح،ج:2،ص:226،225)

قال العلامة الشامي:قال في الشرح الطحاوي:لو قال هل أعطيتنيها فقال:أعطيت،إن كان المجلس للوعد فوعد،وإن كان للعقد فنكاح. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب النكاح،مطلب كثيرا ما يتساهل في إطلاق المستحب على السنة،ج:4،ص:72)


فتویٰ نمبر : 6903/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں