بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گھر میں اپنے پیچھے عورت کھڑی کر کے جماعت پڑھانا


سوال

گرمیوں میں اکثر مجھ سے فجر کی جماعت ہو جاتی ہے تو میں اپنی والدہ کو پیچھے کھڑاکر کے جماعت پڑھاتا ہوں ،تو کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو  سے مرد  کے لئے  حکم ہے کہ وہ مسجد میں با جماعت نماز ادا کرے ،لیکن  کسی عذر کی وجہ سے اگر وہ مسجد نہ جا سکے تو اگر گھر میں اپنی والدہ، ہمشیرہ،یا اہلیہ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھے تو  جائز ہے،جماعت کی فضیلت تو حاصل ہو جائے گی لیکن  مسجد کا ثواب نہیں ملے گا، لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی مجبوری کی وجہ سے  مسجدنہ جاسکے اور گھر میں با جماعت نماز پڑھے تو جائز ہے ،لیکن اس کو معمول نہ بنائے۔

 

حتى لو  صلى  في بيته  بزوجته أو جاريته أو ولده فقد أتى بفضيلة الجماعة و لكن فضيلة المسجد أتم.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نورالإيضاح    ص:232 مكتبه:كارخانه تجارت كتب)

وأما بيان ما يفعله بعد فوات الجماعة فلا خلاف في أنه إذا فاتته الجماعة لا يجب عليه الطلب في مسجد آخر، لكنه كيف يصنع؟ ذكر في الأصل أنه إذا فاتته الجماعة في مسجد حيه فإن أتى مسجدا آخر يرجو إدراك الجماعة فيه - فحسن، وإن صلى في مسجد حيه فحسن، لحديث الحسن قال: كانوا إذا فاتتهم الجماعة فمنهم من يصلي في مسجد حيه، ومنهم من يتبع الجماعة، أراد به الصحابة رضي الله عنهم؛ ولأن في كل جانب مراعاة حرمة وترك أخرى، ففي أحد الجانبين مراعاة حرمة مسجده وترك الجماعة، وفي الجانب الآخر مراعاة فضيلة الجماعة وترك حق مسجده، فإذا تعذر الجمع بينهما مال إلى أيهما شاء.(بدائع الصنائع،فصل في بیان ما یفعله بعد فوات الجماعة،ج:1،ص:665)


فتویٰ نمبر : 9987/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں