بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
قرب قیامت میں زمین کے خزانے نکالنےکا مطلب
سوال
قربِ قیامت زمین اپنے خزانے نکالنے کا کیا مطلب ہے ؟کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان خزانوں میں یہ ماربل /گرینائٹ اور دیگر معدنیات بھی شامل ہیں ،کیونکہ آج کل زمین سے بعض ایسے معدنیات نکلتے ہیں جو کہ سونے سے بھی قیمتی ہیں،تو آیا اس کی کوئی حقیقت ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ قرب قیامت میں زمین کے خزانے نکالنے کے حوالے سے جو آیات اور احادیث واردہوئی ہیں ان میں جو احوال بیان ہوئے ہیں وہ کچھ یوں ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: "اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نکل آئے،جس پر لوگوں کا قتل وقتال ہوگا،اور ہر سو میں سے نناوےآدمی قتل کئےجائیں گے اوران میں سے ہر آدمی کہے گا کہ شاید میں ہی وہ ہوں جسے نجات حاصل ہوگی(اور یہ خزانہ میرے قبضے میں رہ جائے گا)"۔اس طرح ارشاد ہے کہ:"زمین اپنےکلیجے کے ٹکڑوں کو سونے اور چاندی کے ستونوں کی طرح باہر نکالے گی ،قاتل آکر کہے گا کہ میں نے اسی وجہ سے قتل کیا تھا،قطع رحمی والا کہے گا کہ میں نے اس وجہ سےقطع رحمی کی،چوری کرنے والا آئے گا اور کہے گا کہ اسی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا،پھر وہ سب اس کو چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ بھی نہ لیں گے"۔
صورت مسؤلہ کے مطابق موجودہ دور میں دریافت ہونے والے معدنیات کو حتمی طور پر ان آیات و احادیث کا مصداق نہیں کہا جاسکتا،البتہ ممکن ہے کہ یہ ان خزانوں کے ظہور کی ابتداءہو۔
{وأخرجت الأرض أثقالها}...وقيل: أثقالها كنوزها، ومنه الحديث: (تقيء الأرض أفلاذ كبدها أمثال الأسطوان من الذّهب والفضّة."(الجامع لأحكام القرآن،محمّدبن أحمدالقرطبي،ج:5،ص:147)
{وأخرجت الأرض أثقالها}...يقول:أخرجت الأرض أثقالها، يعني الكنوز فيمتلئ ظهر الأرض ذهبا ولا أحد يلتفت إليه..."(التفسيرالكبير،إمام فخرالرازي،ج:11،ص:254)
عن أبي هريرة : أنّ رسول الله صلّى الله عليه وسلم قال: « لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب يقتتل الناس عليه، فيقتل من كل مائة تسعة وتسعون، ويقول كلّ رجل منهم: لعلّي أكون أنا الّذي أنجو .»(الصحيح لمسلم،كتاب الفتن وأشراط الساعة،باب لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب،ج:2،ص:391)(وعنه) أي: عن أبي هريرة (قال: قال رسول الله - صلى الله تعالى عليه وسلم: «لا تقوم السّاعة حتّى يحسر الفرات عن جبل من ذهب»،الظّاهر أنّ القضية متحدة والرواية متعددة، فالمعنى عن كنز عظيم مقدار جبل من ذهب، ومحتمل أن يكون هذا غير الأوّل، ويكون الجبل معدنا من ذهب، (" يقتتل الناس عليه ") أي: على تحصيله وأخذه، ("فيقتل من كل مائة تسعة وتسعون ") أي: من الناس المتقاتلين، (" ويقول كلّ رجل منهم ") أي: من الناس، أو من التّسعة والتّسعين:لعلّي أكون أنا الّذي أنجو... أي: يرجو كل واحد منهم أن يكون هو النّاجي فيقتل الباقي في الحال رجاء أن ينجو في المآل فيأخذ المال، وهذا من سوء الآمال وتضييع الأعمال.(مرقاة المفاتيح،ملّا علي قاري،كتاب الفتن،باب أشراط الساعة،ج:10،ص:89)
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « تقيء الأرض أفلاذ كبدها أمثال الأسطوان من الذّهب والفضّة، فيجيء القاتل، فيقول: في هذا قتلت، ويجيء القاطع، فيقول: في هذا قطعت رحمي، ويجيءالسارق فيقول: في هذا قطعت يدي، ثم يدعونه فلا يأخذون منه شيئا »(الصحيح لمسلم،كتاب الزكوة،باب الترغيب في الصدقةقبل أن لا يوجدمن يقبلها،ج:4،ص:701دارالحديث قاهرة)
"(وعنه) أي: عن أبي هريرة (قال: قال رسول الله - صلى الله تعالى عليه وسلم: " تقيء الأرض ") : مضارع من القيء،أي: تلقي الأرض...،فالمعنى: تظهر كنوزها وتخرجها من بطونها إلى ظهورها... ( ثم يدعونه )بفتح الدال أي: يتركون ما قاءته من الكنز أو المعدن (" فلا يأخذون منه شيئا " (مرقاة المفاتيح،ملّا علي قاري،كتاب الفتن،باب أشراط الساعة،ج:10،ص:90-91)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں