بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

شرکت میں سرمایہ ڈالر کے حساب سےواپس لینے کی شرط لگانا


سوال

اگر دو شریکین نے عقد شرکت  کا معاملہ شروع کیا  اور منافع آدھا آدھا  کرنے کا معاہدہ کیا ،پھر ایک شریک نے  یہ کہا کہ  میری رقم کی ویلیو گر رہی ہے لہذا میری رقم کے جتنے ڈالر بنتے تھے وہ مجھے واپس دیئے جائیں گے اس بات پر دونوں کا معاہدہ ہو گیا تو کیا  اس طرح کا معاہدہ کرنا شرعا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عقد شرکت شروع کرتے وقت شرکا نے جتنی رقم سرمایہ کاری کے لیے دی تھی،عقد شرکت ختم کرتے وقت ہر شریک اتنی ہی رقم کا مستحق ہو گا،کسی بھی شریک کا عقد شرکت کے اختتام پر  دوسری کرنسی لینے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی شریک کا یہ کہنا درست نہیں کہ میری رقم کی ویلیو  گر رہی ہے لہذا میری رقم کے جتنے ڈالر بنتے ہیں وہ مجھے واپس دیئے جائیں گے،اس لیے کہ عقد شرکت میں شریک امین ہوتا ہےاس کی کوتاہی یا تعدی کے بغیر اگر کوئی نقصان ہو جائے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہوتا ،کرنسی کےاتارچڑھاؤ میں شریک کی طرف سے کوئی تعدی نہیں اس لیے اس پراِس کی ذمہ داری ڈالنا جائز نہیں ۔

 

الربح ‌بينهما ‌على ‌الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال۔(بدائع الصنائع،کتاب الشرکۃ،ج: 7 ص:517 )

الشريكان كل واحد منهما امين الأخر۔۔۔فمال الشركة في يد كل واحد منهما في حكم الوديعة فاذا تلف في يد احدهما بدون تعد ولا تقصير لا يضمن حصة شريكة۔(شرح المجلة،المادة:1350ص:719)


فتویٰ نمبر : 3511/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں