بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
امام ابو حنیفہ ؒکے اقوال کے جوابات
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص نے اپنے بیان میں فقہ حنفی پہ الزام لگاتےہوئے یہ کہا ہے، کہ (1)فتاوی عالمگیری میں امام اعظم ابوحنیفہ کا یہ قول موجود ہے کہ کتے ،گدھے،چیتا،اورگیدڑکا گوشت بیچنا جائز ہے؟ (2)دوسرا الزام فقہ حنفی پہ یہ لگایا ہے کہ اگر مسلمان کسی غیرمسلم کو اپنا موکل مقرر کرکے شراب کا کاروبار کرنا چاہے تو یہ فعل بھی حنفیہ کے نزدیک جائز ہے؟ (3)تیسرا الزام یہ لگایا ہے کہ فتاوی عالمگیری میں حنفیہ کے نزدیک ڈھول،سرنگی ،باجا،تبلا اورپیٹی کی خریدوفروخت کرنا بھی جائز ہے؟ براہ کرم ان تمام سوالات کے جوابات کیا ہیں، کہ کس طرح ان کاموں کا کرنا جائز ہے اور کیوں ہے؟
جواب
(1)واضح رہے کہ خنزیرکے علاوہ حرام جانورمثلاً گدھے، چیتا، کتے وغیرہ کو شرعی اصولوں کے مطابق ذبح کرنے سےان کا گوشت اور چمڑا اگرچہ حلال نہیں ہوتا لیکن پاک ہوجاتا ہے، نیزا حناف کے ہاں خنزیر کے علاوہ کسی بھی جانور کی کھال دباغت دینے سے پاک ہو جاتی ہے خواہ اس کا ذبح شرعی نہ بھی ہوا ہو،پس گوشت اور چمڑے کے پاک ہونے کے بعدان کوکھانے کے علاوہ دیگر ضروریات میں استعمال کرنایافروخت کرنا جائزہے۔
(2) اگر کسی مسلمان نے نصرانی کو شراب بیچنے یا شراب خریدنے کا وکیل بنایا اور پھر نصرانی نے وہ کام کیا تو امام صاحب کے نزدیک یہ جائز ہے اور امام صاحب سے جواز کا جو قول منقول ہے اس کی دلیل امام صاحب کے نزدیک یہ ہےکہ توکیل کے باب میں دو طرح کی اہلیتوں کا اعتبار ہوتاہے، 1ـ وکیل اور مامور تصرف کا اہل ہو،2 ـ آمراورمؤکل کی طرف حکم عقد یعنی انتقال ملکیت کا امکان ہو، اگر یہ دو باتیں موجود ہوں تو توکیل درست ہوتی ہے ورنہ نہیں، اور صورت مسئولہ میں یہ دونوں اہلیتیں موجود ہیں یعنی وکیل اور مامور نصرانی ہونے کی وجہ سے شراب اور خنزیر میں تصرف کااہل ہے، اور چونکہ ان چیزوں میں غیر اختیاری طور پر مؤکل کی جانب ملکیت کا انتقال ہوتا ہے لہذا اب صرف اسلام کی وجہ سے اس توکیل کو باطل نہیں کہا جائے گا۔ پھر صاحب ہدایہ نے اس کا حکم یہ ذکر کیا ہے کہ اگرمامور بہ شراب ہو تو مسلمان اس کا سرکہ بنا لےاور اگر خنزیر ہو تو اسے چھوڑ دے یہ توشراء(خریدنے)کی صورت میں ہے، اوراگر بیچنے کا حکم دیا تھا تو ان کی قیمتوں کو صدقہ کردے، اس لیے کہ مسلمان کے حق میں خمر اور خنزیر سے انتفاع حرام ہے۔
(3) فتاوی عالمگیریہ میں امام صاحب سے ڈھول، سرنگی، باجا وغیرہ کی خرید وفروخت کے جواز کے بارے میں جو قول منقول ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آلات موسیقی ایسے معدن سے بنے ہوں کہ جس سے دوسری چیز بن سکتی ہو یا اُسی حالت میں اس سے کوئی جائز فائدہ لینا ممکن ہو تو تب اس کی خرید وفروخت جائز ہے کیونکہ ایسی صورت میں ان آلات کی مالیت اور مال متقوم ہونا باقی رہے گا، تاہم اگر اس سے کوئی اور استفادہ ممکن نہ ہوتو پھر اس کی خرید وفروخت جائز نہیں۔
(1) وفي فتاوى أهل سمرقند إذا ذبح كلبه وباع لحمه جاز. وكذا إذا ذبح حماره وباع لحمه وهذا فصل اختلف المشايخ فيه بناء على اختلافهم في طهارة هذا اللحم بعد الذبح واختيار الصدر الشهيد على طهارته. ولو ذبح الخنزير وباع لحمه لا يجوز كذا في الذخيرة۔ ويجوز بيع لحوم السباع والحمر المذبوحة في الرواية الصحيحة ولا يجوز بيع لحوم السباع الميتة كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الفصل الخامس في بيع المحرم الصيد، وفي بيع المحرمات، ج:3، ص:115)
(2) ولو وكل المسلم ذميا ببيع الخمر أو شرائه جاز في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقالا لا يجوز. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الفصل الخامس في بيع المحرم الصيد، وفي بيع المحرمات، ج:3، ص:115)
قال: "وإذا أمر المسلم نصرانيا ببيع خمر أو شرائها ففعل جاز عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا لا يجوز: على المسلم" وعلى هذا الخلاف الخنزير، وعلى هذا توكيل المحرم غيره ببيع صيده. لهما أن الموكل لا يليه فلا يوليه غيره؛ ولأن ما يثبت للوكيل ينتقل إلى الموكل فصار كأنه باشره بنفسه فلا يجوز. ولأبي حنيفة رحمه الله أن العاقد هو الوكيل بأهليته وولايته، وانتقال الملك إلى الآمر أمر حكمي فلا يمتنع بسبب الإسلام كما إذا ورثهما، ثم إن كان خمرا يخللها وإن كان خنزيرا يسيبه. (الهداية، كتاب البيوع، باب بيع الفاسد، ج:3، ص:48)
(3)ويجوز بيع البربط والطبل والمزمار والنرد، وأشباه ذلك في قول أبي حنيفة، وعندهما لا يجوز بيع هذه الأشياء. وجه قولهما: إن هذه الأشياء أعدت للمعصية حتى صارت بحال لا يستعمل إلا في المعصية، فسقطت ماليتها والتحقت بالعدم، ومن شرط جواز البيع المالية. ولأبي حنيفة: إن هذه الآلات ليست بمحرمة العين، وكونها آلة المعصية إنما يوجب سقوط التقوم والمالية إذا كانت متعينة للمعصية، وهذه الأشياء لم تتعين آلة للمعصية؛ لأن الانتفاع بهذه الأشياء ممكن بوجه حلال بأن يجعل النرد صنجات الموازين، والبربط والطبل والدف ظروف الأشياء، وإذا لم تكن متعينة للمعصية تقومها كالمعيبة فإنه لما تصور الانتفاع يعينها بطريق حلال لا يسقط تقومها وماليتها حتى جاز بيعها كذا ههنا۔ (المحيط البرهاني، كتاب البيع، الفصل السادس فيما يجوز وما لايجوز بيعه، ج:6، ص:350)
ويجوز بيع البربط والطبل والمزمار والدف والنرد وأشباه ذلك في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وعندهما لا يجوز بيع هذه الأشياء قبل الكسر ذكر المسألة في إجارات الأصل من غير تفصيل وذكر في السير الكبير تفصيلا على قولهما فقال إن باعها ممن لم يستعملها ولا يبيع هذا المشتري ممن يستعملها فلا بأس ببيعها قبل الكسر فإن باعها ممن يستعملها أو يبيعها هذا المشتري ممن يستعملها لا يجوز بيعها قبل الكسر قال شيخ الإسلام - رحمه الله تعالى - ما ذكر من الإطلاق في الأصل محمول على التفصيل المذكور في السير كذا في الذخيرة۔ (الفتاوى الهندية، الباب التاسع فيما يجوز بيعه وما لا يجوز، ج:3، ص:116)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں