بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

عمل کے بدلے کمیشن لینا


سوال

کیا بھائی کے لیے کوئی چیز فروخت کرنے میں کوشش ومحنت پر اس سے کمیشن لیا جا سکتا ہے؟مثلاً زید نے گاڑی بیچی عمر پر اور اس معاملہ میں زید کا بھائی بکر بھی شریک تھا اور زیادہ تر کردار بھی بکر نے ادا کیا ہے، تو کیا بکر عمر سے کمیشن لے سکتاہے؟

جواب

واضح رہےکہ  اگر کوئی شخص  کسی کا وکیل نہ بنے، بلکہ دونوں جانب یعنی  بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کے لیے خدمات انجام دے اور دونوں کے  درمیان  رابطہ کرانے کی عمل وسعی کرے  اس صورت میں دونوں طرف سے کمیشن لینا جائز ہے۔  بشرطیکہ باہمی رضامندی سےوہ  اجرت /کمیشن پہلے ہی طے کر لیا جائے۔

صورت  مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے بھائی کے لیے  کوئی چیز   فروخت کرنے میں کوشش ومحنت کرے اس طور پر کہ بھائی اور گاہک کے درمیان رابطہ پیدا کرے اور  گاہک کو  خریداری پر قائل کرے توایسی صورت میں مذکورہ شخص کے لیے اپنے بھائی سے کمیشن لینا جائز ہو گا بشرطیکہ  باہمی رضامندی سے وہ کمیشن پہلے  سےطے کر لیا گیا ہو،اور  لو گوں کے لیے اجرت کے عوض کام کرنا اس کا معمول ہواوراگر  پہلے سے کمیشن طے نہ کیا گیا ہو اور  نہ ہی اجرت پر کام کرنا اس کا معمول ہو تو ایسی صورت میں  یہ اس کی طرف سے تبرع شمار ہوگا،چنانچہ اجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

 

"وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه"۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الاجارة  مطلب في أجرة الدلال،ج: 8،  ص: 78)

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في  الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى وفي الفاسدة أجر المثل …..لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة"۔(درر الحکام في شرح مجلةالاحكام،الباب الثالث، الفصل الاول احکام الوکالة،المادة:1468،ج: 3، ص: 583) 

"(قوله: ورجح في البحر الإطلاق) حيث قال: وأما أجرة السمسار والدلال فقال الشارح الزيلعي: إن كانت مشروطة في العقد تضم۔"( رد المحتار علی الدر المختار ،كتاب الاجارة،ج: 5، ص: 13)


فتویٰ نمبر : 3526/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں