بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعت کی خبر دینے سے حرمت رضاعت


سوال

زینب کی دو بیٹیاں(خالدہ اور فاطمہ)ہیں اور دونوں کی شادی ہوئی ہے خالدہ کا ایک بیٹا ہے جس کا نام عمر ہے اسی طرح فاطمہ کی ایک بیٹی ہے جس کا نام ثمینہ ہے اب ہوا یہ ہے کہ عمر اور ثمینہ کی شادی ہوئی ہے اور تقریباً چار سال ہوچکے ہیں نیز تین اولاد بھی اللہ تعالیٰ نے دی ہے ان سب کچھ ہونے کے بعد اب نانی یعنی زینب خبر دے رہی ہے کہ میں نے خالدہ کے بیٹے عمر کو بچپن میں دودھ پلایا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورتحال میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ بعض علماء کرام کا فرمانا ہے کہ دودھ پلانے کی وجہ سے عمر زینب کا رضاعی بیٹا بن چکا ہے اور اسی وجہ سے عمر اب ثمینہ کا رضاعی ماموں بن گیا جس کی وجہ دونوں کا نکاح حرام ہے اور دونوں کے درمیان جدائی شرعاً ضروری ہے۔

جواب

واضح رہے کہ حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لیے  دو  عادل مرد ، یاایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی ضروری ہے، بغیر گواہوں کےحرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔

صورتِ مسئولہ میں  اگر حرمتِ رضاعت کےثبوت کا نہ کوئی گواہی دینا والاموجود   ہواورنہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک اس کا  اقرار کررہا ہو، تو  محض نانی کے   خبر دینے سے حرمتِ رضاعت  ثابت نہیں ہوتی،  لہذامیاں بیوی کا نکاح بر قرار رہے گا۔

 

"وَلَا تُقْبَلُ فِي الرَّضَاعِ شَهَادَةُ النِّسَاءِ مُنْفَرِدَاتٍ وَإِنَّمَا تَثْبُتُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ" (العناية شرح الهدية، كتاب الرضاع، ج:5، ص:158)

"قال:ولايجوز شهادة امرأة واحدة على الرضاع أجنبيةً كانت أو أم أحد الزوجين، ولايفرق بينهما بقولها، ويسعه المقام معها حتى يشهد على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان عدول، وهذا عندنا"(المبسوط للسرخسی ،باب الرضاع،ج:5،ص:137)

"أما الإ قرار فهو أں يقول لامرأة تزوجها هي أختي من الرضاع،أو أمي من الرضاع،أو بنتي من الرضاع ويثبت على ذلك،ويصبر عليه فيفرق بينهما؛لأنه أقر ببطلان  ما يملك إبطاله للحال،فيصدق فيه على نفسه،وإذا صدق لا يحل له وطؤها والإستمتاع بها،فلا يكون في إبقاء النكاح فائدة"(بدائع الصنائع،كتاب الرضاع،فصل فيما يثبت به الرضاع،ج:5،ص:103)


فتویٰ نمبر : 6919/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں