بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ میں بطورِ زکوۃ دی جانے والی مختلف اشیا میں تملیک کی صورتیں


سوال

مدارس عربیہ کا تقریباً انحصار وجوبی و نفلی صدقات  پر ہے،مہتمم چونکہ زکوۃ دینے والوں کاوکیل  ہوتاہےاور اس كے قبضہ کرلینے سے تملیک نہیں ہوتی ۔اب وجوبی و نفلی صدقات میں  تملیک کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ جن میں چند امور حل طلب ہیں: 1۔زکوۃ و عشر  کی مد میں آنے والی اشیا مثلاًاینٹیں، گندم، گارڈر ،سریا وغیرہ۔2۔زکوۃ کی مد میں آنے والی رقوم یعنی نقدی وغیرہ۔3۔زکوۃ کی مد میں آنے والے کتب درسیہ اور دیگر کتب۔ 4۔گوشت جانور وغیرہ کی تملیک کی صورت

جواب

مہتمم زکوۃ دینے والوں کی طرف سے وکیل ہے یا غربا و فقرا کی طرف سے،اس میں علما کی آرا مختلف ہیں ۔تاہم دلائل کی قوت ،کتب فقہیہ سے ہم آہنگی اور احتیاط پر مبنی قول یہ ہے  کہ مہتمم  زکوۃ دینے والوں کی طرف سے وکیل ہو۔اور زکوۃ وصول کر کے مستحق طلبا سے تملیک کرانے کے بعد طلبا کے ا خراجات اور مدرسے کی ضروریات میں صرف کرے۔نفلی صدقات میں تملیک شرط نہیں ،البتہ زکوۃ اور صدقات واجبہ میں تملیک ضروری ہے ،جس کے بغیر زکوۃ ادانہیں ہوتی۔

سوال  ميں مذكور مختلف اشیا میں  تملیک کی صورتیں یہ ہیں:

1۔زکوۃ  وعشر کی مد میں آنے والی اشیا مثلاً اینٹیں ،گندم،گارڈر،سریا وغیرہ  پہلے مستحق زكوة طلبا کو بطور مالک دے دی جائیں اور پھر وہ اپنی رضامندی  سے مدرسے کے لیے وقف کردیں۔ یا ان اشیا میں یہ صورت  اختیار کی  جاسکتی ہے،کہ ان  چیزوں کوزکوۃ میں قبول کرنے کی بجائےانہیں  معطیین سے مدرسہ کی ضروریات کے لیے خرید لیا جائے،اس سے  مدرسہ کے ذمے ان کی رقم لازم ہو جائے گی ،پھر وہ معطیین مدرسہ والوں کو وکیل بنا دیں کہ ہماری رقم  جو مدرسہ کے ذمے قرض ہےاسے زکوۃ کی مد میں خرچ کرلو، یوں اس رقم کا وہی حکم ہو جائے گا جو نقد رقم کا ہےجو آگے بیان کیا گیا ہے۔

2۔زکوۃ کی مد میں  آنے والی رقوم یعنی نقدی وغیرہ مستحق طلبا کو ملکیتاًدی جائے،پھر ان سے اخراجات کی مد میں لے لیا جائےا ور ان کے کھانے پینے اور دوسری  ضروریات میں صرف کیا جائے۔

3۔زکوۃ کی مد میں آنے والی کتب درسیہ اور دیگر کتب مستحق طلبا کو ملکیتاً دی جائیں ،پھر وہ اگرا پنی مرضی سے ادارے کے لیے وقف کرنا چاہیں ،تووقف کرسکتے ہیں۔

4۔گوشت یا جانور وغیرہ مستحق طلبا کو ملکیتاً دے کر پھر ان کی مرضی و اجازت سے پکایا جائےیا پہلی صورت میں بیان کردہ طریقہ   اختیار کیا جائے۔

 

ويشترط أن يكون الصرف (‌تمليكا) ‌لا ‌إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).(الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الزكوة ،باب مصرف الزكوة والعشر،ج:2،ص:344)

واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين وعن الدين يجوز، وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه، ولو امتنع المديون مد يده وأخذها لكونه ظفر بجنس حقه، فإن مانعه رفعه للقاضي ‌وحيلة ‌التكفين بها التصدق على الفقير ثم هو يكفن فيكون الثواب لهما، وكذا في تعمير المسجد.(الدر المختار مع ردالمحتار،كتاب الزكاة،ج:3،ص:191)

الأولى أداء الدين عن العين كجعله ما في ذمة مديونه زكاة لماله الحاضر، بخلاف ما إذا أمر فقيرا بقبض دين له على آخر عن زكاة عين عنده فإنه يجوز لأنه عند قبض الفقير يصير عينا فكان عينا عن عين.(ردالحتار على الدرالمختار،كتاب الزكاة،ج:2،ص:281)


فتویٰ نمبر : 9956/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں