بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

بھائی کا اپنے حصے میں محروم بہنوں کو میراث میں حصہ دینا


سوال

 ایک شخص کے دس بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ،ہر ایک بیٹے کو ایک کروڑروپےمیراث میں حصہ ملا ہے ،بیٹیوں کو ان کاحصہ نہیں ملا ہے ۔ایک بھائی  نے اپنے ایک کروڑروپے کاروبار میں لگایا  ہیں جو سال گزرنے کے بعد دو کروڑ ہوئے ،اب وہ چاہتا ہے کہ اپنی دونوں بہنوں کو ان کا حصہ دے دے۔اب سوال یہ ہے کہ بہنوں کو ان کا حصہ ایک کروڑمیں سے دے دے یا دو کروڑمیں سے،اور کتنا حصہ ان کوملےگا؟

جواب

واضح رہے کہ والدین کے ترکہ میں جس طرح ان کی نرینہ اولاد کا حصہ ہوتا ہے اسی طرح بیٹیوں کا بھی اس میں شرعی حق  ہوتا ہے ،والدین کے انتقال کے بعد ان کے ترکہ پر بیٹوں کا قبضہ کر لینا اور بہنوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا ناجائز اور گناہ ہے، حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔ نیزاگرکوئی وارث باقی ورثاکی اجازت کے بغیرترکہ میں تصرف کرکے نفع کمائے تو یہ نفع صرف اسی کا شمار ہوگاباقی ورثااس نفع میں شریک نہ ہوں گے، وہ صرف اصل ترکہ میں اپنے حصے کے حق دار سمجھے جائیں گے۔

صورت مسئولہ میں اگر بھائی نے بہنوں کو حصہ دیےبغیر  ایک کروڑ روپے کاروبار میں لگا ئےہوں، جوسال گزرنے کےبعد دو کروڑ ہوئےہو ں، تو بہنوں کامنافع میں کوئی حصہ نہیں بنتا، تاہم ایک کروڑ میں ان کا جو حصہ بنتا ہے وہ ان کے حوالہ کردیا جائے۔

 

"وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ" اى يوصيكم الله وصية بها لا يجوز تغيرها قال عليه السلام (‌من ‌قطع ‌ميراثا فرضه الله قطع الله ميراثه من الجنة).(روح البيان، سورةالنساء آيت:12، ج:2، ص:175)

إذاأخذ أحد الورثۃ مبلغا من الدراھم من الترکۃ قبل القسمۃ بدون إذن الأخرین وعمل فیہ وخسر تکون الخسارۃ عائدۃ إلیہ، کما أنہ إذا ربح لا یسوغ لبقیۃ الورثۃ طلب حصۃ منہ. (شرح المجلۃ، المادۃ:1090، ج:4، ص:29)


فتویٰ نمبر : 3580/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں