بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

تیسرے آدمی کو اپنے آدھے حصے میں شریک کرنے کا حکم


سوال

میری ایک فارمیسی میں بھائیوں کیساتھ شراکت ہے جس میں میرا حصہ سرمایہ تقریبا 30 لاکھ تک ہے  جس سے ماہانہ مجھے تقریبا سوا لاکھ (125000) تک پرافٹ موصول ہوتا ہے ،میں خود دبئی میں ہوں  فارمیسی میرا بھائی (پارٹنر) چلا رہا ہے ، اب اس وقت دبئی میں مجھے پندرہ لاکھ (1500000) رقم کی اشد ضرورت ہےجس کےلیے میرے پاس کوئی رقم موجود نہیں ،تو میں نے یہ سوچا ہے کہ میں اگر کسی شخص سے 15 لاکھ رقم  اس نام پر لوں کہ وہ بندہ میرے ساتھ فارمیسی میں میرے شئیر میں میرا شریک بنے اور اس کے عوض میں اس کو اپنی پرافٹ میں سے آدھا حصہ بطور نفع دیتا  رہوں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ میرے نفع سمیت نقصان میں بھی شریک ہو تو کیا شریعت کی نظر میں اس طرح کرنا درست ہے؟سوال کے اندر چند باتیں بھی ملحوظ ہوں؛ 1:مذکورہ صورت میں بھائی کا اپنے شرکاء کی اجازت کے بغیر  کسی کو اپنے حصہ میں شریک بنانا  کیادرست ہے؟2:نیز اس شریک کیساتھ شرکت بھی 2 یا 3 سال کی مدت تک معاہدے میں طے پائے،یعنی سائل جب اپنی ضرورت پوری کرے گا اور 15 لاکھ کی رقم کے واپسی پر قادر ہوگا تو شریک کو الوداع کہےگا ،تو شرعا اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ شرکت کے معاملے میں فریقین باہمی رضامندی سے نفع کا کوئی بھی تناسب طے کرسکتے ہیں، لیکن نقصان کی صورت میں ہر فریق اپنے اپنے سرمایہ کے بقدر ہی ذمہ دار ہوگا۔ البتہ شراکت داری کا معاہدہ جب ایک بار کچھ شرکاء کے درمیان طے ہوپائے اورمعاہدہ شرکت عنان کا ہو، تواس صورت میں ایک شریک اگر کوئی معاہدہ کرتا ہو تو اس معاہدہ کے حقوق دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے۔ نیز شریعت کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق  جب شرکت کا معاہدہ کیا جائےاور اس میں وقت مقرر کیا جائے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا  اپنا آدھا حصہ تیسرے شخص کو اس طور پر فروخت کرنا، کہ وہ اس معاملہ میں  نفع اور نقصان میں برابرشریک ہو تو شرعاً یہ جائز ہے، نیز اس تیسرے شخص کے ساتھ  محدود مدت تک شرکت کا معاہدہ کرنے کی گنجائش ہے لیکن مذکورہ صورت میں خرابی یہ ہے کہ سائل 2 یا 3 سال کی مدت میں اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اس شریک کو واپس 15لاکھ روپے دینے کا معاہدہ کرتا ہے حالانکہ نفع کی صورت میں وہ 15  لاکھ سے زیادہ اور نقصان کی صورت میں کم کا حقدار ہوگا لہذامعاہدہ میں یہ شرط جائز نہیں اس کی بجائے یہ طے کیا جائے کہ شرکت ختم کرتے وقت اس کے حصے کی جو قیمت ہو، یا جس پر طرفین کی رضامندی ہو جائے اس کے عوض اس کا حصہ خریدا جائے گا۔

 

إذا ‌شرطا ‌الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا. (بدائع الصنائع، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج:6، ص:69)

وكذا لو وقت المضاربة صح التوقيت؛ لأن المضاربة والشركة توكيل، والوكالة مما يتوقت. (الفتاوى الخانية على هامش الهندية، كتاب الشركة، فصل في شركة العنان، ج:3، ص:458)

(‌وهي) ‌أي ‌شركة ‌العقد (‌ثلاثة) الأول (شركة بالأموال و) الثاني (شركة بالأعمال وتسمى) هذه الشركة اصطلاحا (شركة الصنائع، و) شركة (التقبل، و) شركة (الأبدان) ووجه التسمية ظاهر(دررالحکام شرح غررالأحکام، کتاب الشرکۃ، ج:2، ص:318)


فتویٰ نمبر : 3532/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں