بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

سالی کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کی صورت میں نکاح پراثراورایسےشخص كو امام مقرر کرنا


سوال

ایک شخص کے سالی کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ،تو کیا ان ناجائز تعلقات کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی نیز اس شخص  کو مسجد کا امام مقرر کر سکتے ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بیوی کے اصول  و فروع کے علاوہ اس کے کسی رشتہ دار سے بہن وغیرہ کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے سے بیوی شوہر پر حرام نہیں ہوتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص سالی کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھے  تو اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہو گی،البتہ ایسے تعلقات رکھنا انتہائی قبیح اور کبیرہ گناہ ہے۔اس لئے اس کو فورا ترک کر کے توبہ و استغفار لازم ہے۔نیزسالی کے ساتھ ناجائز تعلقات والا شخص منصب امامت  کا  ہرگزاہل نہیں ،فقہائے کرام نے ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی لکھا ہے ، امامت جیسے مقدس منصب کے لیے اس منصب کے لائق متقی پرہیزگار شخص کو مقرر کرنا چاہیئے۔

 

وفي الخلاصة: وطئ ‌أخت ‌امرأته لا تحرم عليه امرأته۔ (الدرالمختار،كتاب النكاح،ج:4ص:109)

(قوله: وفي الخلاصة إلخ) ‌هذا ‌محترز ‌التقييد بالأصول والفروع وقوله: لا يحرم أي لا تثبت حرمة المصاهرة، فالمعنى: لا تحرم حرمة مؤبدة۔۔۔لو زنی بإحدی الأختيين لايقرب الأخری حتی تحيض الأخری حيضة۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:4ص:109)

‌(والأحق ‌بالإمامة) تقديما بل نصبا، مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الأحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة، ثم الأورع) أي الأكثر اتقاء للشبهات. والتقوى: اتقاء المحرمات۔(الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:2ص:294)

(قوله ولذا كره إمامة الفاسق )۔۔۔۔والفاسق لغة:خروج عن الاستقامة،وهو معنى قولهم خروج الشىء على وجه الفساد، وشرعا:خروج عن الطاعة الله تعالى بارتكاب كبيرة۔( حاشية الطحاوى على مراقى الفلاح،كتاب الصلاة،ص:245)

رجل ‌أم ‌قوما وهم له كارهون إن كانت الكراهية لفساد فيه أو؛ لأنهم أحق بالإمامة يكره له ذلك، وإن كان هو أحق بالإمامة لا يكره ذلك۔(البحر الرائق،كتاب الصلاة،ج: 1ص:609)


فتویٰ نمبر : 6899/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں