بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 09/09/2026 |
دارالافتاء
مناسخہ کی ایک صورت
سوال
عثمان غنی نامی شخص کا انتقال ہوچکا ہے اس کے ورثا میں دو بیویاں مریم بی بی اور باغ ارم اور ایک بھائی رحیم شاہ مرحوم جو کہ عثمان غنی کی رحلت کے بعد انتقال کر چکے ہیں عثمان غنی کی کوئی اولاد نہیں ہے البتہ ان کے دو لے پالک بچے(عمران اور سائرہ) ہیں ،رحیم شاہ مرحوم کی دو بیویاں ہیں ایک رحیم شاہ کی حیات میں فوت ہو چکی ہے ،اور ایک بیوی فہمیدہ زندہ ہے رحیم شاہ کے دیگر ورثا میں اس کے دس بیٹے امجد علی ،اسد علی،شاہد علی ،زاہد علی،عمر شاہ،عمران،نعمان،احسان ،ذیشان،حیدر ہیں ایک بیٹا زاہد علی باپ کی رحلت کے بعد انتقال کر چکا ہے اس کے ورثا میں ایک زوجہ سائرہ اور دو بیٹے فیضان اور ریان موجود ہیں مرحوم کی میراث ورثا کے مابین کس حساب سے تقسیم ہوگا؟کیا عثمان غنی کے دو لے پالک بچوں کا میراث میں حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
جواب
میــــــــ(عثمان غنی)ـــــــــــ(5120)ــــــــــــــــــــت
بیوہ بیوہ بھائی
مریم بی بی باغ ارم رحیم شاہ
640 640
میــــــــــــــــــــ (رحیم شاہ)ــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔
بیوہ بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا
فہمیدہ امجد علی اسد علی شاہد علی زاہد علی عمر شاہ
480 336 336 336 336
۔۔۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا
عمرا ن نعمان احسان ذیشان حیدر
336 336 336 336 336
میـــــــــــــ(زاہد علی)ـــــــــــــــــت
بیوہ بیٹا بیٹا
سائرہ فیضان ریان
147 42 147
الاحیـــــــــــــــــــــــ(5120)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔
مریم بی بی باغ ارم فہمیدہ امجد علی اسد علی شاہد علی عمر شاہ
640 640 480 336 336 336 336
۔۔۔ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاء
عمران نعمان احسان ذیشان حیدر سائرہ فیضان ریان
336 336 336 336 336 42 147 147
بشرط صدق و ثبوت اگر عثمان غنی مرحوم کے مذکورہ بالا ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو اور اموات بھی درجہ بالا ترتیب سے ہوئی ہوں تو بعد ازادائے حقوق متقدمہ علی الارث مرحوم کا ترکہ پانچ ہزار ایک سو بیس( 5,120 )برابرحصوں ميں تقسيم ہوکر مریم بی بی ،باغ ارم میں سے ہر ایک كو640/5,120حصے،فہمیدہ کو 480/5,120حصے،امجد علی ، اسد علی ، شاہد علی ،عمر شاہ ،عمران ، نعمان ، احسان ،ذیشان ،حیدرمیں سے ہرایک کو336/5,120حصے،سائرہ کو42/5,120 حصے، فیضان اورریان میں سے ہرایک کو147/5,120 حصے ملیں گے ۔ جب کہ متبنی (لےپالک بچے) میراث کے مستحق نہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں لے پالک بچوں(عثمان اور سائرہ بانو )کا میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا،تاہم اگر بالغ ورثا اپنی رضامندی سےاپنےحصوں سے ان لے پالک بچوں کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتےہیں۔
قال الله تعالٰی:﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم﴾ (الآيه:12)
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب و إن علا ثم الأخ لأاب وأم ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم.(الفتاوي الهندية،ج:6 ص:451)
والمتبني لا يلحق في الاحكام بالابن فلا يستحق الميراث ولايرث عنه.(احكام القرآن للتهنوي ج: 6ص:(184
وما جعل ادعياءكم ابناءكم فلا يثبت بالتبني شئ من احكام البنوة من الارث.(تفسير مظهري سورة الاحزاب تحت الآيه:4 ج:7،ص:292)
ویستحق الارث باحدي خصال ثلاث:بالنسب وهو القرابة،السبب هو الزوجية،الولاء.(الفتا وی الهندية،كتاب الفرائض،الباب
الاول:ج:6 ص:447)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں