بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بغیر نیت کے غصے کی حالت میں ایک،دو،تین،چار،پانچ۔۔۔ کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

میں اپنی بیوی سے لڑ رہا تھا،لڑائی میں اس کو میں نے کہا کہ میں ان شاءاللہ تمہیں طلاق دوں گا ،دوسری بیوی لے کر آوں گا۔الفاظ یہی تھے(طلاق بہ درکومہ ان شاءاللہ)،پھر صحن کی طرف میں گیا اور غصے میں صرف ایک،دو ،تین ،چار ،پانچ،چھ۔۔۔کہا اور اس میں طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی۔میری بیوی کہہ رہی ہے کہ میں نے ایسا کچھ بھی سنانہیں ،گواہ بھی کوئی نہیں کیونکہ ہم گھر میں اکیلےتھے،وہ بھی دوبارہ گھر میرے ساتھ آباد کرنا چاہتی ہےاور میں بھی یہی چاہتا ہوں۔

جواب

ایک ،دو،تین دراصل طلاق کے لئے وضع نہیں بلکہ گنتی کے لئے وضع ہوئےہیں لیکن کبھی کبھی  قرینہ کے پیش نظر ان سے طلاق کی گنتی  مراد ہوتی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک ،دو، تین کہنے سے اگر طلاق کی نیت ہو ،یا مذاکرہ طلاق ہو، یا غصہ کی حالت ہوتو طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ اگر ان میں سے ایک حالت بھی نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی شوہر نے   غصے کی حالت میں ایک،دو، تین کے الفاظ استعمال کئے ہوں تو غصے کی حالت میں اس طرح کےالفاظ کہنے سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں  لہذاآئندہ شوہر بیوی سے ازدواجی تعلق نہیں رکھ سکتا۔

 

''وفي الفتاوىٰ:رجل قال لامرأته:ترا يكي و ترا سه، أو قال تو يكي تو سه، قال أبو القاسم الصفّار: لا يقع شيء. وقال الصدر الشهيد:يقع إذا نوىٰ،قال: وبه يفتىٰ.قال القاضي:ينبغي أن يكون الجواب على التّفصيل، إن كان ذٰلك في حال مذاكرة الطّلاق، أو في حال الغضب يقع الطّلاق، وإن لم يكن لا يقع إلا بالنّية كما قال بالعربية:أنت واحدة"(خلاصةالفتاوىٰ،كتاب الطلاق،الفصل الثاني،ج:2،ص:98)

 ولو قال:أنت بثلاث،وقعت ثلاث إن نوىٰ،ولوقال:لم أنو، لا يصدّق إذا كان في حال مذاكرة الطّلاق،وإلا صدّق، ومثله بالفارسية (تو بسه)على ما هو المختار.(الفتاوىٰ الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني،الفصل الأول،ج:1 ،ص:424)

 


فتویٰ نمبر : 6898/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں