بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بھوسہ کے بدلے گندم کی کٹائی کا حکم


سوال

بھوسہ کے بدلے گندم کی کٹائی کرنا جائز ہے یا نہیں. کیا مسئلہ قفیز الطحان میں آتا ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص اجرت پر کام کرتا ہواور اپنےعمل سے حاصل ہونے والی چیز کو اجرت مقرر کرتا ہو تو یہ قفیز الطحان کے معنی میں آتا ہے جو کہ جائز نہیں، لیکن جو چیز براہ راست  اس کے عمل سے حاصل نہ ہوتی ہو  تو اس کو اجرت میں مقرر کرنا جائز ہے، البتہ اجرت کا معلوم اور متعین  ہوناضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  بھوسہ کو گندم کی کٹائی کے بدلے مقرر کرنا قفیز الطحان کے معنی میں نہیں، لیکن اگر بھوسہ کی کوئی مقدار متعین نہ کی ہو تو اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے اس طرح کا اجارہ جائز نہ ہوگا۔

 

وكذلك ‌قفيز ‌الطحان وهو أن يستأجر طحانا ليطحن له حنطة معلومة بقفيز منها، أو من دقيقها وذلك حرام؛ لأن العقد فاسد؛ فإنه لو صح كان شريكا بأول جزء من العمل، والعامل فيما هو شريك فيه لا يوجب الأجر، ثم الأجر إما أن يلتزمه في الذمة، أو في عين موجود وهو ما التزمه في الذمة ودقيق تلك الحنطة غير موجود وقت العقد. ( المبسوط للسرخسي،کتاب الإجارات، ج:15، ص:83)

و أما الذي يرجع إلى ما يقابل المعقود عليه وهو الأجرة... وهو أن تكون الأجرة مالا متقوما معلوما. ( بدائع الصنائع، كتاب الإجارة، ج: 6، ص: 18)

فساد الإجارة ينشأ بعضه عن كون البدل مجهولا، وبعضه عن فقدان شرائط الصحة الأخر،ففي الصورة الأولى يلزم أجر المثل بالغا مابلغ، وفي الصورة الثانية يلزم أجر المثل بشرط أن لا يتجاوز الأجر المسمى. ( المجلة، كتاب الثاني: في الإجارات، الفصل الرابع: في فساد الإجارة و بطلانها، مادة:462)


فتویٰ نمبر : 3517/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں