بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وارث کو میراث سے محروم رکھنے والے کے نیک اعمال کا حکم


سوال

 اگر کوئی شخص کسی کو میراث سے محروم کرے مگر پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرتا ہو،روزے  کا بھی اہتمام کرتا ہوتو کیا یہ نماز اس کی  بخشش کا ذریعہ بن سکے گی؟ کیا اسلام نماز روزے تک محدود ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ نےمیت کے  مال میں سے ہر وارث کا حصہ مقرر کیا ہے،کسی وارث کو  اس کے  حق سے محروم کرنا گناہ کبیرہ ہے،قرآن و حدیث میں ایسے شخص  کے بارے میں سخت وعیدات آئی ہیں جو کسی صاحب حق کواپنے حق سے محروم رکھے،ایک حدیثِ مبارک میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے دریافت کیا کہ: ”كياتم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا  مفلس وہ ہے جس کے پاس  نہ درہم ہوں اور نہ ہی سامان ،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:  ميری امت  کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن   بہت ساری   نمازیں،روزیں،اورزکوٰۃ لے کر آئےگا،اور اس حال میں آئے گاکہ کسی کو گالی دی ہو گی،اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی،اور کسی کا ناحق مال کھایا ہو گا،اور کسی کا خون بہایا ہو گا،اور کسی کو مارا ہو گا،پس  کچھ نیکیاں اُس کو  دی جائیں گی،اور کچھ اُس کو ،پھراگر اس کی اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو اُن کے گناہوں کو اس پر ڈالا جائے گا،پھر  اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا"۔

 صورت  مسئولہ کے مطابق کسی شخص نے وارث کو اپنے حصے سے محروم کر دیا  ہو مگر وہ پانچ وقت کی نماز ،روزےاور تراویح کا اہتمام کرتا ہو،تو ایسا شخص صاحب حق کو اپنا حق نہ دینے کی وجہ سے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے، لہذا  ايسا شخص قيامت كے دن مذكوره بالا وعيد كا مستحق بنے گا،نیز دین اسلام عبادات کی پابندی کے ساتھ ساتھ  معاملات  درست کرنے اور دوسروں   کے  حقوق  کی ادائیگی کا بھی حکم دیتا ہے۔

 

قال الله تعالیٰ:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (سورة البقرة،آية:188)

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أتدرون ما المفلس؟» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: «إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة، وصيام، وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار۔(صحیح مسلم، باب تحریم الظلم،ج: 2ص: 320)

عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌فر ‌من ‌ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة۔(سنن ابن ماجه،کتاب الوصایا،ج:2ص:902)»


فتویٰ نمبر : 3584/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں