بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ساس کو شہوت سے چھونے سے اس کی بیٹی کی حرمت کا حکم


سوال

میں نے ایک عورت کو  شہوت کے ساتھ چھو لیا ہےاور برہنہ ہونے کی حالت میں  اپنا جسم اس کے جسم کےساتھ لگایا ہے، لیکن زنا نہیں کیا ہے  اور یہ عمل کئی بار شہوت کے ساتھ کیا ہے  جس میں بعض مرتبہ انزال ہوا ہے اور بعض مرتبہ انزال نہیں ہوا ہے۔اب سوال یہ ہے  کہ اس عورت کی بیٹی کے ساتھ میرے خاندان والوں نے  کئی سال پہلے میرا رشتہ کیا ہےاور وہ بیٹی میرے نام پر ہے ، لیکن ہمارے درمیان نکاح نہیں ہوا ہے تو کیا میں اس لڑکی کے ساتھ نکاح کرسکتا ہوں؟اس کے علاوہ اس لڑکی کی بھابھی کےساتھ حرام تعلق بھی قائم کیا ہے جس پر وہ لڑکی بھی خبردار ہے اب اگر میں رشتہ سے انکار کرتا ہوں تو لڑکی کی ماں جو کہ میرے ساس ہے  کہتی ہے کہ  لڑکی کہتی ہے  کہ  اگر اس نے میرا رشتہ ختم کیا تو میں اپنی تمام بھائیوں کو بھابھی اور آپ کے درمیان حرام تعلق کے بارے میں بتلاتی ہوں  جس کی وجہ سے ہمارے خاندان میں دشمنی پیداہوگی اور لڑکی کی بھابھی کی طلاق اور موت کا خطرہ بھی ہے اور مجھے بھی موت اور دشمنی کا خطرہ ہے، لہذا آپ صاحبان مہربانی فرما کر اس آفت اور عذاب سے نکلنے  میں مدد فرمائیں۔

جواب

واضح ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مشتہاۃ  عورت (جس کی عمر نو  سال سے زیادہ ہو)  کو شہوت کے ساتھ چھو لے یا بوسہ لے اور درمیان میں کوئی ایسا حائل نہ ہو جو  حرارت کےلیے مانع ہو تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے،  بشرطیکہ اس وقت اس چھونے سے انزال نہ ہو ا ہو، حرمت مصاہرت کی صورت میں مرد اور عورت  کے اصول و فروع ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی سائل نے عورت کو شہوت سے چھولیا ہو  اور اس کے جسم کی حرارت محسوس کی ہو  اور انزال  نہ ہوا ہوتو اس   پر اس عورت کی بیٹی ہمیشہ کےلیے حرام ہے، لہذا اس  سےنکاح جائز نہیں۔

 

(و) حرم أيضا بالصهرية (‌أصل ‌مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا....هذا إذا لم ينزل، فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة، به يفتى.

(قوله: وأصل ممسوسته إلخ) ؛ ‌لأن ‌المس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط... (قوله: بشهوة) أي ولو من أحدهما. ( الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح،  فصل في حرمۃ المصاهرة، ج:4، ص: 107)

ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة كذا في التبيين، و الفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها. ( الفتاوى الهنديه، كتاب النكاح، باب المحرمات، القسم الثاني: المحرمات بالصهرية، ج:1، ص: 303)


فتویٰ نمبر : 6895/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں