بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

راستہ کی مسجد میں دوسری جماعت کا حکم


سوال

اگر کوئی مسجد  راستہ میں واقع ہو اور اس کے لیے مستقل امام  بھی ہو تو اس میں دوسری جماعت پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہےاگرکسی محلہ یا راستہ کی مسجد کے لیے مستقل امام ہو تو اس میں جماعت ثانیہ اذان واقامت کےبغیر پڑھنا جائز ہے، البتہ کراہت سے بچنے کےلیے  پہلے امام نے جس جگہ نماز پڑھی ہو اس سے ہٹ  کر دوسری جگہ پر نماز پڑھنی چاہئے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی مسجد  راستہ میں واقع ہو  اور اس کےلیے مستقل امام بھی ہو تو اس میں   دوسری  جماعت  اذان و اقامت کے بغیر پڑھنا جائز ہے، البتہ پہلے امام نے جس جگہ نماز پڑھائی ہو  اس سے ہٹ کر مسجد میں دوسری جگہ پرجماعت ادا کی جائے۔

 

المسجد إذا كان له إمام معلوم وجماعة معلومة في محله فصلى أهله فيه بالجماعة لا يباح تكرارها فيه بأذان ثان أما إذا صلوا ‌بغير ‌أذان يباح إجماعا وكذا في مسجد قارعة الطريق..... وفي الأصل للصدر الشهيد أما إذا صلوا بجماعة ‌بغير ‌أذان وإقامة في ناحية المسجد لا يكره. ( الفتاوى الهنديه، كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل الأول في الجماعة، ج:1، ص:93 )

يكره ‌تكرار ‌الجماعة في مسجد محلةبأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، أو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا؛ كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة كما في أمالي قاضي خان اهـ ونحوه في الدرر، والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون. ( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الإمامة، مطلب في تكرار الجماعة،ج:2، ص:288)


فتویٰ نمبر : 9946/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں