بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
قتل خطا کی دیت سے صلح کرنا
سوال
گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص وفات پا گیاہے اب گاڑی کا مالک فوت شدہ شخص کے اہل خانہ سے صلح کرنا چاہتا ہے لیکن میت کے ورثاء میں ایک نا بالغ بچہ ہے تو کیا ازروئے شرع میت کے اولیاء کا دیت میں نا بالغ بچے کے حصے سے کم مال پر صلح کرنا جائز ہوگایا نہیں ؟
جواب
ایکسیڈنٹ کا قتل جاری مجریٰ خطا کے زمرے میں شمار ہوتا ہے ۔ جس میں قاتل پر کفارہ اور اس کے عاقلہ پر دیت لازم ہوتی ہے ۔ البتہ مصالحت کے طور پر قاتل سے کچھ رقم لینے میں کوئی حرج نہیں ۔لیکن قاتل اور مقتول کے ورثاء کی رضامندی سے جو رقم مقر ر ہو اس کی مقدار دیت کی مقدار سے کم ہونی چاہیے۔ نیز دیت چونکہ مقتول کا ترکہ شمار ہوتی ہے اس لیے وہ مقتول کے ورثاء میں ان کے حصوں کے برابر تقسیم ہوگی ۔اگر مقتول کےورثاء میں نابالغ یتیم بچے ہوں تو اولیاء کا ہر ایسا اقدام جائز نہیں جس سے بچوں کا نقصان ہوتا ہو۔
صورت مسئولہ کے مطابق مقتول کے اولیاء کے لیے مقتول کے نا بالغ بچے کو دیت میں جو حصہ ملتا ہے اس سے کم مال پر صلح کرنے میں چونکہ بچے کا نقصان ہے اس لیے اس طرح صلح کرنا جائز نہیں ۔ البتہ دیت میں بچے کا جو حصہ بنتا ہے اس کے برابر حصہ لے کر اولیاء بچے کے لیے محفوظ رکھ لیں اور اس کے علاوہ اولیاء مصالحت کے تحت کم رقم مقرر کریں تو اس کی گنجائش ہے۔
فأما إذا اصطلحا قبل القضاء والرضا إن اصطلحا على مال فرض في الدية إن كان المصالح عليه أكثر من الدية فإنه لا يجوز... وإن وقع الصلح على أقل... فإنه يجوز.( الفتاوى الهندية،كتاب الجنايات، الباب السادس فى الصلح والعفو،ج:6،ص:30)
االتصرف على الرعية منوط بالمصلحة...والحاصل يجب ان يكون تصرف السلطان والقاضي و الوصي والمتولي والولي مقرونا بالمصلحة والا فهو غير الصحيح ولا جائز.(شرح المجلة،رقم المادة: 58)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں