بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
طلاق دیتے وقت ان شاءاللہ کہنا
سوال
زید نے اپنی اہلیہ کے روز روز جھگڑوں سے تنگ آ کر اپنی ساس کو فون کر کے کہا کہ میں اسے یعنی اپنی اہلیہ کو سبق سکھانے کے لئے ان شاءاللہ طلاق دے رہا ہوں، جب عقل ٹھکانے آ جائے تو بھیج دینا۔ یا پھر یہ جملہ کہا کہ ان شاءاللہ میں نے اسے طلاق دے دی۔ آیا ان جملوں کے ادا کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور اگر واقع ہوتی ہے تو کتنی؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق دیتے وقت اگر کوئی شخص متصلاً ان شاء اللہ کہہ دے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان شاء اللہ کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو طلاق ہے، اور اللہ کی مشیت کسی کو معلوم نہیں، اس لیے متصلا ً ان شاء اللہ کہنے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اگر طلاق کے جملے اوران شاء اللہ کے درمیان کچھ دیر تک توقف کیا تو اس صور ت میں طلاق واقع ہوجائے گی۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص نے طلاق کےساتھ ان شاء اللہ متصلاً کہاہو، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے۔
وإذا قال الرجل لامرأته أنت طالق إن شاء الله تعالى متصلا لم يقع الطلاق " لقوله عليه الصلاة والسلام "من حلف بطلاق أو عتاق وقال إن شاء الله تعالى متصلا به فلا حنث عليه (الهداية، کتاب الطلاق، باب الأيمان في الطلاق، فصل في الاستثناء،ج:3، ص:204)
(قوله ولا في أنت طالق إن شاء الله متصلا، وإن ماتت قبل قوله إن شاء الله) أي لا يقع الطلاق لحديث رواه الترمذي،وحسنه مرفوعا «من حلف على يمين، وقال إن شاء الله لم يحنث.(البحر الرائق، کتاب الطلاق، باب التعليق،ج:4،ص:60)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں