بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زانی کا مزنیہ کی بیٹی سے نکاح کا حکم


سوال

میرے ماموں کے بیٹے کی بیوی ہے۔ وہ آج سے تقریبا چار سال پہلے ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے ساتھ بیوہ ہو چکی ہے اور اس کے بیوہ ہونے کے ٹھیک دو سال بعد میرے ساتھ تعلق بن گیا۔ تعلق اتنا آگے بڑھا کہ ہم دونوں جنسی طور پر ایک دوسرے سے مل گئے اور ہم سے زنا ہو گئی۔ اور اس کے بعد ہم کئی بار جنسی طور پر مل چکے ہیں۔ اب ہمارے گھر والے اس کی بیٹی کے ساتھ میرا نکاح کروانا چاہتے ہیں۔ جب کہ وہ عورت ابھی بھی میرے ساتھ رابطے میں ہے۔ اور کہہ رہی ہے کہ اب ہم سارے پرانے تعلقات بھول جائیں گے اور ہم آپ کو رشتہ دے دیں گے۔ تو کیا اس کی بیٹی سے میں نکاح کر سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے زنا کرلینے سے مرد اور عورت کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہوکر زانی اور مزنیہ پر ایک دوسرے کے اصول وفروع حرام ہو جاتے ہیں۔لہذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق سائل کے لیے اس عورت کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ،جس کے ساتھ زنا کا ارتکاب کرچکا ہے۔

 

( قوله : وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته )قال في البحر:أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع: حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا، وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا.(رد المحتار على الدرا لمختار، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:4، ص:108)

وفي الخانية: حرمة الصهرية تثبت بالعقد الجائز وبالوطی حلالاً کان أو حراماً أو عن شبهة أو زنا.(الفتاوی التاتارخانية،كتاب النكاح، الفصل السابع في أسباب التحريم، ج:4، ص:48)

فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت(الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، ج:1، ص:339)


فتویٰ نمبر : 6922/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں