بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

طلاق ثلاثہ کے بعد حلالہ کی ایک صورت


سوال

اگر کسی شخص  نے اپنی بیوی   کو طلاق ثلاثہ دے دی،حرمت کے علم ہونے کے باوجود اس نے بات چھپائی اور برابر بیوی سے ملتا رہا،یہاں تک کہ حمل بھی ٹھہر گیا ۔ بیوی کی عدت گزرنے کے بعداس کو اللہ تعالی کا خوف پیدا ہوا ا ور اس نے بات ظاہر کردی۔پھر بڑے بھائی نے بنیت حلالہ اس عورت کے ساتھ نکاح کرلی اورشرعی حلالہ کے بعد طلاق دے دی۔اب اس عورت کا وضع حمل ہوچکا ہے ۔ حل طلب سوال یہ ہے کہ کیا نفاس کی مدت گزرنے کے بعد  یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال  ہوگی یا نہیں ؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے،تو یہ عورت اس پر مغلظہ ہوجاتی ہے اور دونوں کا آپس  میں   ازدواجی تعلق قائم رکھنا حرام  ہو  جاتا ہے۔ اگر اس  عورت کا  عدت گزرنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح ہوجائے   اور اس کے ساتھ ہمبستری کے  بعد طلاق ہوجائے ،یا وہ شخص مرجائے ،تو پھرزوج ثانی سے  عدت گزرنے کے بعدپہلے شوہر  کے  ساتھ نکاح کرسکتی ہے۔نیز طلاق ثلاثہ کے بعد بیوی سے جماع زنا ہے،زنا سے حاملہ عورت کے ساتھ نكاح  جا ئز ہے۔لیکن زنا کرنے والے شخص کے علاوہ کسی اور نے اس سے نکاح کیا ہو ،تو دوران حمل وضع حمل سے پہلے اس کے لیے جماع کرنا جائز نہیں۔  البتہ اگر جماع کرے تو نکاح صحیح موجود ہونے کی وجہ سے اس کو زنا نہیں کہا جائے گا۔لہذا  زوج ثانی کے  جماع سے یہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔تاہم حلالہ  کی نیت کے ساتھ نکاح کرنا یا کرانا   موجب گناہ ہے ، اس لیے کہ'  آپﷺ نے حلالہ کرنے والے  اور کرانے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے' ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ، پھروہ اس سے ملنے کی وجہ سے  حاملہ ہوگئی، پھر اس عورت نے عدت گزارنے کے بعد   کسی اور شخص سے نکاح کر لی   اور اس شخص نے ہمبستری کے بعد  طلاق  دے دی  اور  پھر  اس  عورت   کا وضع حمل ہوگیا،تو اب وہ پہلے شوہر  کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے۔

 

قال الله تعالى: فَإِن ‌طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ ۔ (سورة البقره،2/230)

‌عن ‌عائشة، ‌أن ‌النبي صلى الله عليه وسلم قال في رجل طلق امرأته ثلاثا، ثم تزوجها آخر، ثم طلقها من قبل أن يمسها، قال: " لا ينكحها الأول حتى تذوق من عسيلته، ويذوق من عسيلتها ".(مسند أحمد ، مسند عائشة،  ج:7، ص:58)

(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) ‌كتزوجتك ‌على ‌أن ‌أحللك.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب الطلاق،باب الرجعة، ج:5، ص:47)

‌والزنا ‌لا ‌يوجب ‌العدة ولا يمنع من أن تتزوج. (الفتاوى الهندية، فصل:فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:475)

وعلى هذا يخرج ما إذا تزوج امرأة حاملا من الزنا أنه يجوز في قول أبي حنيفة ومحمد، ولكن ‌لا ‌يطؤها ‌حتى ‌تضع.(بدائع الصنائع، كتاب النكاح، فصل أن لا يكون بها حمل ثابت النسب من الغير، ج:2، ص:269)


فتویٰ نمبر : 6906/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں