بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

پانچ ہزار آبادی پر مشتمل " کا بلیانو کوٹو "گاؤں میں نماز جمعہ کا حکم


سوال

سلام مسنون کے بعد عرض یہ ہے کہ ہمارا محلہ جو کہ صوابی شہر سے تقریبا   پانچ /۵ کلو میٹر دور ہے ۔ اور اتنا ہی فاصلہ موضع  باجا  بام خیل سے  بھی بنتا ہے ۔بشمول ہمارے محلے کے مکمل تقریبا سات /۷ محلہ جات ہیں جو ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ اس تما م علا قے کو " کا بلیانو کو ٹو  " گاؤں کے نام سے جانا اور  پکارا جاتا ہے ۔ اس گاؤں کی کل آبادی تقریبا پانچ /۵ ہزار کے لگ بھگ ہے ۔ یہاں  ایک پرائمری سکول بھی ہے  اور ایک جنازہ گاہ  بنانے جا رہے ہیں ۔ روز مرہ ضروریا ت کی تفصیل یہ ہے کہ اس علاقے  میں کل تیس /۳۰ سے چالیس /۴۰ تک  دکا نیں ہیں ۔ جن میں کریانہ ، گھی ، چاول ، سبزیاں ، میوہ جات غرض اشیاء خورد نوش کی تمام ضروری چیزیں مل جاتی ہیں ۔ علاج معالجے کے لیے ڈسپنسری موجو د ہے ،جوتوں ، ویلڈر،مستری کی دکانیں نیز دو پٹرول پمپ بھی واقع ہیں ۔ ہمارے محلے کے  علاوہ  باقی تمام محلہ جات کی مساجد میں نماز جمعہ پڑھا جا رہا ہے ۔ چونکہ ہم اہل محلہ بھی اپنی مسجد میں نماز جمعہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، لہذا اس مسئلہ میں کہ " اس گاؤں میں نماز جمعہ جائز ہے یا نہیں  " شرعی رہنمائی فرما کر شاکر فرمائیں۔

جواب

نماز جمعہ کے وجوب ادا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ  جہاں نماز جمعہ ادا ہوتی ہو  وہ شہر ہو ، یا توابع شہر میں سے ہو ، اور یا بڑا گاؤں ہو۔ بڑے گاؤں کی تعبیر فقہاے کرام ؒنے اپنے اپنے وقت میں حالات کے مطابق مختلف عبارات سے کی ہے۔ موجودہ  دور میں جس گاؤں کی آبادی دو، ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو،اور روزمرہ کی ضروریات اس میں میسر ہوں وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا۔

صورت مسئولہ  کے مطابق  اگر یہ محلہ مذکورہ گاؤں کا حصہ ہو، تو اس  میں نماز جمعہ ادا کرنا جائز ہے۔

 

وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلوٰة، باب الجمعة، ج:3،ص:6)

وتؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو الأصح(الفتاوى الهندية، كتاب الصلوٰة، الباب السادس عشر في صلوٰة الجمعة،ج:1،ص: 205)


فتویٰ نمبر : 9944/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں