بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
وکیل کے ذریعے گاڑی پر قبضہ حاصل کر کے فروخت کرنا
سوال
اگر کوئی شخص پاکستان میں بیٹھ کر نیلام کے ذریعے جاپان میں ایک گاڑی خریدتا ہے،مگر کمپنی یا ایجنٹ کے ذریعے اس گاڑی کو پاکستان پہنچاتا ہے ، کمپنی گاڑی مالک سے لے کر خریدار تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتی ہے اور یہ شخص جاپان میں اکاوئٹ کھولتا ہے جس میں تیسں فیصد یا پچاس فیصد رقم فورا اد ا کی جاتی ہے باقی رقم گاڑی کراچی پہنچنے کے بعد ادا کی جاتی ہے،تو کیا گاڑی راستے میں ہو تو اس گاڑی کو فروخت کیا جا سکتا ہے؟ اور بعض اوقات تیس فیصد رقم کمپنی ہفتے بعد کاٹتی ہے اس دوران گاڑی کو فروخت کرنا کیاجائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ منقولی اشیا کی خرید و فروخت کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیز بائع کی ملکیت اور قبضہ میں ہو،چاہے خود قبضہ میں لی ہو یا وکیل کے ذریعے وہ چیز اس کے قبضہ میں آئی ہو۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص پاکستان میں بیٹھ کر جاپان میں گاڑی خریدتا ہے اور کمپنی کے ذریعے گاڑی کراچی منگواتا ہے اور کمپنی یہ گاڑی مالک سے لے کر خریدار تک پہنچاتی ہے، تو اس صورت میں یہ کمپنی پاکستانی شخص کی طرف سے وکیل بالقبض ہو گی،اور وکیل کے قبضہ میں گاڑی آنا اصل مالک کے قبضہ میں آنا ہےلہذا یہ پاکستانی شخص گاڑی کراچی پہنچنے سے پہلے دوسرےشخص پر فروخت کر سکتا ہے۔
فصل: "ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه"، لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك۔(الهداية،كتاب المرابحۃ والتولیۃ،ج: 3ص:59)
قبض الوكيل بمنزلة قبض الموكل من حيث إن الوكيل في القبض عامل للموكل۔(المحيط البرهاني،الفصل الثاني عشر: في الوكالة في الصرف،ج:8ص:340)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں