بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

انسان کی تصویر پر ماشاءاللہ کہنا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انسان کی تصویر پر ماشاءاللہ کہنا کیسا ہے؟

جواب

 شرعی نقطہ نظر سے ذی روح کی تصویر بنانا  ناجائز اور گناہ ہے البتہ کسی تصویر کو دیکھ کر اس کو پسند کرنے اور اس پر تائید ی تعلیقات ماشاءاللہ یا سبحان اللہ وغیرہ  لکھنے یا  کہنے كے دو پہلو ہیں، ایک پہلو یہ ہے کہ تصویر میں کسی شخصیت کو اچھی حالت میں دیکھ کر اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کلمات کہے جائیں ظاہر ہے کہ اس کا تعلق تصویر سے نہیں ہوتا ، بلکہ اس شخصیت کی ذات سے ہوتا ہے لہذا یہ جائز ہے ،اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ تصویر کو دیکھ کر تصویر کے بنانے پر ہی داد دینا مقصود ہو، تو اس صورت میں یہ جائز نہیں اس لیے اس سے احتراز کرنا لازمی ہے۔

 

عن عبدالله بن مسعود يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:أشد ‌الناس‌عذابا ‌يوم القيامة المصورون.(الصحيح لمسلم،كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة،رقم الحديث:٢١٠٩،ج؛2،ص:201 مكتبه رشيديه )

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء ‌تصوير ‌صور ‌الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه - صلى الله عليه وسلم - «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،باب ما يفسد الصلاة فيها وما لا يفسد فيها،ج:2،ص:29، دار الكتاب الإسلامي)


فتویٰ نمبر : 5768/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں