بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
لفظ" طلاق "کے استعمال او ر اخبار سے طلاق کا حکم
سوال
میری والدہ اور بیوی موبائل پر باتیں کررہی تھیں ، دوران گفتگو لڑائی ہوئی اور ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگی۔ میں نے اپنی والدہ سے موبائل لے کر اپنی بیوی سے کہا:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "۔اس نے فون بند کردی۔پھر اس کی بہن نے فون کیا ،میں نے اپنی والدہ سے فون لے کر اس کی بہن سے کہا:میں نے طلاق دے دی ہے ،دے دی ہے۔اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟ میں نے اپنی بیوی کی بہن سے یہ الفاظ کہ "میں نے طلاق دے دی ہے، دے دی ہے "بغیر کسی نیت کے ڈرانے کی غرض سے کہے تھے۔
جواب
اگر شوہر اپنی بیوی کے لیے طلاق کے الفاظ استعمال کرے ،تو اسے طلاق واقع ہوجاتی ہے اور خاوند کی نیت کا اعتبار نہیں ہوتا۔نیز کسی کو طلاق کی خبر دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل نے واقعی اپنی بیوی سے فون پر یہ الفاظ کہےکہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " ،تو اس سے ایک طلاق رجعى واقع ہوگئی ہے۔البتہ اس کے بعد بیوی کی بہن سے یہ الفاظ کہ "میں نے طلاق دے دی ہے ،دے دی ہے"کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ ان الفاظ میں محض طلاق کی خبر دی گئی ہے ۔لہذا خاوندکے لیے عدت کے دوران بیوی سے رجوع جائز ہے۔لیکن اگر رجوع کیے بغیر عدت گزر گئی تو تجدید نکاح ضروری ہے۔
ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار.(بدائع الصنائع،كتاب الطلاق،فصل في النية في أحد نوعي الطلاق و هو الكناية،ج:3،ص:102)
إذا طلق الرجل إمرأته تطليقة رجعية، أو تطليقتين، فله أن يراجعها في عدتها.(الهداية، كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج:2،ص:405)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں