بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شک کی بنیاد پر ایک دن پہلے اعتکاف کے لیے بیٹھنا


سوال

اگر رمضان کے روزوں میں شک واقع ہوجائے اور اسی بنیاد پر کوئی ایک دن پہلے یعنی مقامی لوگوں کا انیسواں روزہ ہو احتیاطاً اعتکاف کے لئے بیٹھ جائے تو کیا اس کا اعتکاف درست ہوا یا اس میں کوئی قباحت شرعی ہے؟

جواب

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف  سنت مؤکدہ ہے اور سنت اعتکاف کا وقت رمضان المبارک  کی بیسویں تاریخ  کو غروب آفتاب کے ساتھ  شروع ہوتا ہے۔لہذا معتکف کے لیے  بیسویں روزے کا سورج غروب ہونے سے پہلے نیت  کر کے    اعتکاف کی جگہ میں داخل ہونا ضروری ہے،اور اگر ایک دن  پہلےہی سے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں  آکر بیٹھ جائے،تو یہ  بھی جائز  ہے، البتہ اس صورت میں اس شخص کا سنت اعتکاف  بیسویں تاریخ کے دن مغرب سے ہی شروع ہوگا ،اور اس سے پہلے اعتکاف نفل شمار ہوگا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق شک کی بنیاد پر رمضان کے  بیسویں روزہ کے بجائے  مقامی لوگوں کے انیسواں روزہ کو اعتکاف کے لیے بیٹھ جانا درست ہے،البتہ اس صورت  میں اس شخص کا سنت اعتکاف بیسویں تاریخ  کے دن مغرب سے ہی شروع ہوگا، اور اس سے پہلے  کا اعتکاف نفلی ہوگا۔

 

وينقسم إلى واجب، وهو المنذور تنجيزا أو تعليقا، وإلى سنة مؤكدة، وهو في العشر الأخير من رمضان، وإلى مستحب، وهو ما سواهما، هكذا في فتح القدير.(الفتاوى الهندية،کتاب الصوم،البا السابع في الاعتكاف،ج:1،ص:274)

(قوله: وأقله نفلا ساعة) لقول محمد في الأصل إذا دخل المسجد بنية الاعتكاف فهو معتكف ما أقام تارك له إذا خرج.(البحر الرائق،ج:2،ص:323)


فتویٰ نمبر : 9969/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں