بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسافر کے لیےنماز عصر میں قصر اور اتمام کی ایک صورت


سوال

میں اپنے  گھر سے ایک جگہ  جارہاتھا،جہاں جانے کے  تین راستے  ہیں۔ وہ جگہ پہلے راستہ سے 65 کلو میٹر ،دوسرے راستے سے 72 کلو میٹراور تیسرے راستے سے 91 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔میں پہلے راستہ سےہوکر  اس علاقہ  میں چلا گیا اوروہاں دو ،تین  دن قیام کے بعد گھر واپس آنے کے لیے تیسرے والے راستے کو اختیار کیا۔میرے واپس روانہ ہونے سے قبل  عصر کی نما ز کا وقت ہو گیا۔اب سوال یہ ہےکہ میں  عصر کی نما ز  میں قصرکروں  یا اتمام؟

جواب

اگر ایک شخص ایسی جگہ سفر پر جارہاہو ،جہاں  جانے کے لیے ایک سے زائد راستے ہوں ،بعض طویل اور بعض مختصر ،طویل راستہ مسافت  شرعی کی مقدار میں ہو اور مختصر راستہ اس سے کم ہوتو جس راستے سے سفر کررہاہواسی کا اعتبار ہوگا۔نیز سفر اور اقامت کی نماز میں آخر وقت کااعتبا ہوگا، اگر ایک شخص ابتدا ء وقت میں مقیم ہو اور اخیر وقت میں مسافر ہوجائے اور ابھی تک نماز ادا نہ کی ہوتو قصر کرے گااور اگر نماز فوت ہوگئی تو قضا بھی قصر کے ساتھ ہو گی۔لیکن اگر ایک شخص ابتدا میں مسافر ہو اور اخیر وقت میں مقیم ہو جائے اور نماز ابھی نہ پڑھی ہو تو اتمام کرے گااورنماز  فوت  ہوجانے کی صورت میں قضا بھی مکمل نماز کی اد اکرنی ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل عصر کی نماز گھر کی طرف واپس روانہ ہونے سے پہلے اسی علاقہ میں ادا کرے تو اتمام کرے گاکیونکہ ابھی تک سفر شروع نہیں کیا ہے،لیکن اگر وہاں نماز اداکیے بغیر اس لمبے راستے سے  روانہ  ہوجائے  تو اب چونکہ وہ سفر شرعی پر  ہے اس لیےراستے میں  عصر کی نماز میں قصر کرےگا۔

 

وتعتبر المدة من أي طريق أخذ فيه، كذا في البحر الرائق فإذا قصد بلدة وإلى ‌مقصده ‌طريقان أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها والآخر دونها فسلك الطريق الأبعد كان مسافرا عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان، وإن سلك الأقصر يتم، كذا في البحر الرائق.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلاة،باب الخامس عشر:في صلاة المسافر،ج:1،ص:199)

"والمعتبر فيه" أي ‌لزوم ‌الأربع ‌بالحضر والركعتين بالسفر "آخر الوقت" فإن كان في آخره مسافرا صلى ركعتين وإن كان مقيما صلى أربعا لأنه المعتبر في السببية عند عدم الأداء فيما قبله من الوقت فتلزمه الصلاة لو صار أهلا لها في آخر الوقت ببلوغ وإسلام وإفاقة من جنون وإغماء وطهر من حيض ونفاس (مراقي الفلاح شرح نورالإيضاح، باب صلاةالمسافر،ص:348)


فتویٰ نمبر : 9961/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں