بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

درمیان میں حائل ہونے کی صورت میں حرمت ِمصاہرت کا حکم


سوال

یہ واقعہ ساڑھے تین سال پرانا ہے، نومبر کا مہینہ تھا موسم گرما بدل چکا تھا، میں نیند سے جاگا ابھی بستر پر ہی لیٹا ہوا تھا، آنکھیں بند تھیں، میرے پاؤں کے پاس کوئی بیٹھا ہوا تھا میں سمجھا میری بیوی ہے، میں نے دونوں پاؤں سے اسےپکڑ کر ہلانا شروع کر دیا جب کوئی جواب نہیں آیا تو میں نے پوچھا کون ہے تو بیوی کی آواز آئی کہ ہماری بیٹی ہے ،جس کی عمر اس وقت نو ساڑھے نو سال تھی۔ بیٹی کپڑوں میں ملبوس تھی، میں ہمیشہ پاؤں پر رضائ یا کمبل اوڑھ کر سوتا ہوں، سردیوں میں سردی کی وجہ سے اور گرمیوں میں اس لیے کہ ہر وقت اے سی چلتا ہے۔ اس دن سے میرا جینا روز مرنے جیسا ہے۔ بیوی کے پاس جانے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں حرمتِ مصاہرت تو ثابت نہیں ہوئی ۔ بیوی سے رویہ بھی بلکل بدل گیا ہے حالانکہ بیوی کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا جیسا آپ سوچ رہے ہو، میں بہت زیادہ ڈر گیا ہوں، ہر وقت حرمت مصاہرت کے بارے میں پڑھتا اور دیکھتا رہتا ہوں ۔میرے تین بیٹے بھی ہیں ،بڑا پندرہ سال کا ہو چکا ہے ،دوسرا نو سال کا اور تیسرا چھ سال کا اب ان سے بھی ہر وقت کا شبہ رہتا ہے کہ اب یا کبھی مستقبل میں کوئی حرمت ماں بیٹے میں نہ ہو جائے ۔اب مزید اہم باتیں یہ ہیں جو مجھے غالب گمان میں بلکل یاد نہیں حالانکہ  کئی بار بہت کوشش کی کہ اچھے سے یاد کروں۔(1): پاؤں سے پکڑتے وقت میرے پاؤں رضائ یا کمبل سے ڈھکے ہوئے تھے یا نہیں. (2) جسم کی حرارت کا بھی گمان اس لیئے نہیں کہ موسم بدل گیا تھا بیٹی ویسے تو ملبوس تھی ہی شاید اوپر سے سردیوں والے کوئی اضافی کپڑے پہنے ہوئے تھے یا نہیں یہ بھی غالب گمان میں یاد نہیں اور میں جیسا کہ بتا چکا ہوں کہ میں ہمیشہ پاؤں پر رضائ یا کمبل اوڑھ کر سوتا ہوں اس وقت پاؤں مکمل ڈھکے ہوئے تھے یا نہیں یہ بھی غالب گمان میں یاد بلکل نہیں۔ (3): انتشار تھا کم ہوا بڑھا یہ بھی یاد نہیں۔ (4): ہدف بیٹی ہر گز نہیں تھی۔ (5): میلان بیٹی کی طرف ہر گز ہر گز نہیں تھا۔(6): مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ بیٹی ہے اب ان یاداشتوں کے باوجود بھی کیاحرمت ثابت ہو گی؟

جواب

  واضح رہے کہ حرمت ِ مصاہرت  ثابت ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کوئی شخص کسی مشتہاۃ عورت(جس کی عمر نو سال سے زیادہ ہو)کو  شہوت کے ساتھ چھو لے یا بوسہ لے  اور درمیان  میں کوئی ایسا حائل نہ ہو جو جسم کی حرارت کے لیے مانع ہو ،تو اس سے حرمتِ  مصاہرت ثابت ہوتی ہے  اور اگر درمیان میں حائل موجود ہو لیکن باریک نہ ہو کہ اس کے ہوتے ہوئے جسم کی حرارت محسوس ہوتو حرمت  مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

لہذا صورت مسؤلہ میں   سائل  کے بیان کردہ تفصیلات کی رو سے حرمتِ مصاہرت  ثابت نہیں ہوگی۔

 

(‌و) ‌حرم ‌أيضا ‌بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة۔قوله: (بحائل لا يمنع الحرارة) أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب۔(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب النكاح،فصل في حرمة المصاهرة،ج:3،ص:32)

‌‌ثم ‌المسّ ‌إنما ‌يوجب ‌حرمة ‌المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقاً لا يجد حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة، وإن انتشرت آلته إليه بذلك، وإن كان رقيقاً بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت حرمة المصاهرة.(المحيط البرهاني،كتاب النكاح،الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم،ج:3،ص:64)


فتویٰ نمبر : 6901/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں