بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

احناف کا نماز عصر کو مثل اول کے بعد مثل ثانی سے پہلے پڑھنے کا حکم


سوال

میں کشمیر سے کبھی کبھی گجرانوالہ نانی کے گھر ایک ہفتے کےلئےآتاہوں،یہاں سب اہل حدیث غیر مقلد ہیں،اس لئےعصر کی نماز ان کے پیچھے پڑھنی پڑتی ہے،کیا عصر کی نماز ان کےپیچھے مثل اول کے بعد مثل ثانی میں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں،اور اگر نہیں تو جو پڑھ لی  ہیں کیا ان نمازوں کی قضاء  لوٹانا  ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عصرکی نماز کا وقت صاحبین  اور ائمہ ثلاثہ  کے نزدیک مثل اول کے بعد  شروع ہو تا ہے،جبکہ  امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک مثل ثانی کے بعد،لیکن امام صاحب کا ایک قول مثل اول کا  بھی ہے ،لہذا  اگر  کسی  نے نماز عصر مثل ثانی ختم ہونے سے پہلے  پڑھ لی تو ادا شمار ہو گی ،صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مجبوری کی حالت میں  مثل اول  کے بعد عصر کی نماز پڑھ لے تو ادا شمار ہوگی ۔

 

(ووقت الظهرمن زواله)ای میل ذکاء عن کبد السماء(الی بلوغ الظل مثلیه)و عنه مثله،وهو قولهماوزفروالأئمة الثلاثة،قال الإمام الطحاوی:وبه ناخذوفی غررالأذکار:وهوالمأخوذبه،وفی البرهان:وهوالأظهر لبیان جبریل علیه السلام وهو نص فی الباب۔ (الدرالمختارعلی صدرردالمحتار،کتاب الصلوۃ،مطلب فی تعبدہ علیه السلام قبل البعثه ج:٢ ،ص:١٤،١٥)


فتویٰ نمبر : 9966/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں