بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

امتحانی ڈیوٹی میں نقل کی اجازت کےلیے دعوت کھانے اور کھلانے کا حکم


سوال

میں ایک ٹیچر ہو ں۔ میٹرک وغیرہ کے امتحانات  میں دوسرے سکول میں ہماری ڈیوٹی لگتی ہے،جس کا معاوضہ حکومت کی طرف سے ملتا ہے۔امتحانات کے دنوں میں وہاں کے اساتذہ اور اکثر وہ طلبا جو اس سکول میں امتحان دیتے ہیں ،آپس میں رقم جمع کرتے ہیں اور ڈیوٹی والے اساتذہ کے لیے دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ ڈیوٹی والے اساتذہ کی مہمان نوازی مقصود ہوتی ہے،تاکہ وہ  امتحان میں شریک طلبا کو دوران امتحان  نقل کے اجازت دیں۔یہ کھانا پینا شرعاً کیسا ہے؟اگر1۔دعوت اساتذہ کی طرف سے ہو۔2۔طلبا   نے  رضامندی سے دعوت کی رقم جمع کی ہو۔3۔طلبا سے زبردستی پیسے جمع کیے گئے ہوں۔

جواب

امتحان کا مقصد طالب علم کی ذہنی صلاحیت اور استعداد کا جانچنا ہوتاہے ،اگر وہ اس میں کامیاب ہوجائے تو اگلے کلاس  میں ترقی یا مقرر شدہ  ڈگری کا اہل قرار دیا جاتاہے۔اس لیے نقل کرکے امتحان پاس کرنا نہ صرف جھوٹ اور دھوکہ ہے بلکہ امانت اور دیانت کے بھی خلاف ہے۔اسی طرح نقل کی اجازت دینا یا اس میں کسی قسم کی مدد کرنااپنی منصبی ذمہ داری میں خیانت اور گناہ کے کام میں تعاون  ہے۔لہذا نقل کرنا یا نقل کروانا دونوں شرعاًاور  قانوناًجرم ہے۔نیز اس مقصد کے لیے دعوت کرنا رشوت کے زمرے میں داخل ہوکر ناجائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر دعوت کا مقصدامتحان میں  نقل کی اجازت دینا ہو ،تویہ رشوت ہے،اس قسم کی دعوت کرنا اور ایسی دعوت سے کھانا دونوں ازروئے شریعت جائز نہیں  ۔اور اگر دعوت کا انتظام  طلبا سے زبردستی رقم جمع کرکے  کیا گیا ہو ،تو چونکہ اس میں کسی کا مال اس کی رضامندی کے بغیر استعمال کرنا ہے،  جس سے حدیث شریف میں ممانعت آئی ہے۔اس لیے اس میں رشوت کے ساتھ ساتھ دوسرا گناہ بھی ہے ۔ لہذا امتحانی ڈیوٹی والے اساتذہ اپنے لیےخودکھانے پینےکا بندوبست کریں اور ایسی دعوتوں سے مکمل اجتناب کریں  ۔ ہاں اگر کسی ادارے میں بطورضیافت بوقت ضرورت   عام کھانا کھلایا جاتا ہو یا چائے پلائی جاتی ہو،تو وہ مروت کے زمرہ میں آتاہے۔

 

قال الله تعالى:وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ۔(المائدہ ،5/3)

عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: " يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم؟ وفي أي بلد أنتم؟ " قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام. قال: " فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه (ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه ‌لا ‌يحل ‌مال امرئ إلا بطيب نفس منه".)(مسند احمد ،باب : حديث عم بي  حرة الرقاشي،ج:34،ص:99،رقم الحديث:20690)

 

ونوع منها ‌أن ‌يهدي ‌الرجل ‌إلى ‌رجل مالا بسبب أن ذلك الرجل قد خوفه فيهدي إليه مالا ليدفع الخوف عن نفسه، أو يهدي إلى السلطان مالا ليدفع الظلم عن نفسه، أو عن ماله وهذا نوع لا يحل الأخذ لأحد، وإذا أخذ يدخل تحت الوعيد المذكور في هذا الباب.وهل يحل للمعطي الإعطاء.؟عامة المشايخ على أنه يحل؛ لأنه يجعل ماله وقاية لنفسه، أو يجعل بعض ماله وقاية للباقي.ونوع منها ‌أن ‌يهدي ‌الرجل ‌إلى ‌رجل مالا ليسوي أمره فيما بينه وبين السلطان ويعينه في حاجته، وإنه على وجهين.الوجه الأول أن تكون حاجته حراما، وفي هذا الوجه لا يحل للمهدي الإعطاء ولا للمهدى إليه الأخذ (الفتاوى الهنديه،كتاب ادب القاضي،الباب التاسع:وما يتصل بهذالفصل الرشوة،ج:3،ص:296)


فتویٰ نمبر : 5770/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں