بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
ثمن کی ادائیگی کے بعد مبیع کی تعیین نہ ہونے کی صورت میں عقد بیع کاحکم
سوال
1992میں ہم نے ایک آدمی کو ایک لاکھ روپے کی اینٹیں بیچ دی تھیں۔اس آدمی نے ایک لاکھ روپے ہمیں دے دیے،اینٹیں ہماری دکان میں پڑی تھیں ،ہم نے کئی مرتبہ اس سے کہا کہ یہاں سے اینٹیں لے جاؤ،لیکن اس نے اینٹیں نہیں اٹھائیں۔پھر ہم نےاینٹوں کا کاروبار ختم کردیا ، وہ خاموش رہا،ہم نےبھی اس طرف توجہ نہیں دی۔اب وہ شخص مرچکا ہے اور اس کے بیٹے آکر ہم سے اینٹوں کا مطالبہ کررہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ اب ہم اس کو ایک لاکھ روپے واپس کریں یا اینٹیں خرید کر دے دیں ؟
جواب
بائع اور مشتری کے درمیان ایجاب و قبول سے بیع تام ہوجاتی ہے، تاہم عقد بیع کےصحیح ہونے کے لیے مبیع اور ثمن کا معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے۔ لہذا مبیع یا ثمن کے مجہول ہونے کی صورت میں بیع فاسد شمار ہوگی اور متعاقدین کے لیے اس کا فسخ کرنا ضروری ہو گا۔ چنانچہ بیع فسخ ہونے کی صورت میں اگر ثمن کی ادائیگی ہوئی ہو لیکن مبیع حوالہ نہ ہوئی ہو، تو بائع بیع فسخ کرکے پیسے واپس کرے گا۔
صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ مشتری کے ثمن کی ادائیگی کے بعد بائع نے مبیع یعنی اینٹوں کو گن کریا کسی اور طریقے سے تعیین کرکے علیحدہ نہیں کیاتھا۔ اس لیے مبیع مجہول ہونے کی وجہ سے عقد فاسد تھا۔ لہذا مشتری اور بائع پراس کا فسخ کرنا ضروری تھا۔ لیکن بیع فسخ کرنے سے قبل مشتری کا انتقال ہوچکاہے، اس لیے بائع بیع فسخ کرکے وصول کی گئی رقم مشتری کے ورثا کو واپس کرے گا۔
البيع: ينعقد بالإيجاب والقبول إذا كانا بلفظ الماضي.(مختصر القدوري ،كتاب البيوع، ص:78)
يلزم أن يكون المبيع معلوما عند المشتري.(المجلة الأحكام العدلية، الكتاب الأول في البيوع، الفصل الأول في حق الشروط و أوصافه، ألمادة:200، ص:41)
لا يصح البيع إلا بمعرفة قدر المبيع والثمن.(البحرالرائق، کتاب البیع، ج:5، ص:294)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 330
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 247
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 902
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 456
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 478
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 325
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1199
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں