بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

محراب مسجد کا درمیان میں نہ ہونے کا حکم


سوال

ہمارے محلے کی مسجد کا محراب دائیں جانب زیادہ ہے مطلب امام صاحب کے دائیں جانب بیس مقتدی ہوتے ہیں اور بائیں جانب پینتیس اور یہ عمل علی التابید رہتا ہے۔کیا شریعت میں اس سنت سے اعراض کی علی التابید گنجائش ہے ۔اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

امام کے لیے مقتدی کی صفوں کے آگے  بالکل درمیان میں کھڑا ہونا سنت ہے،  بلاعذر   صف کے دائیں یا بائیں طرف  ہو کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، مساجد میں محراب اسی غرض سے درمیان میں  بنا ئے جاتے ہیں؛ تاکہ  امام صف کے بالکل درمیان میں قیام کرے، لہذا  بلاضرورت محراب سے ہٹ کر نماز پڑھانا مکروہ اور  تعامل امت کے  خلاف ہے تا ہم اگرکسی عذرکی وجہ سے محراب وسط ِ مسجدمیں  نہ ہوتو ایسی صورت میں اگرامام صف کے درمیان کھڑا ہوسکتا ہوتوصف کے درمیان کھڑاہونا چاہیے اوراگرصف کے درمیان میں کھڑاہونامشکل  ہو ،مثلًا جگہ میں تنگی ہوجاتی ہوتوپھردائیں اوربائیں کھڑاہوسکتاہے، باقی نمازیوں کی نماز میں کسی بھی صورت میں فرق نہیں آئے گی۔

 

عن يحيى بن بشير ابن خلاد، عن أمه، أنها دخلت على محمد بن كعب القرظى فسمعته يقول:حدثني أبو هريرة قال: قال رسول الله- صلى الله عليه وسلم:  "وسطوا الإمام، وسدوا الخلل"۔(سنن ابی داؤد ، باب مقام الإمام من الصف،ج:2،ص،18،دار الرسالة العالمیة)

السنۃ أن یقوم في المحراب لیعتدل الطرفان ولو قام في أحد جانبي الصف یکرہ ولو کان المسجد الصیفي بجنب الشتوي، وامتلأ المسجد یقوم الإمام في جانب الحائط لیستوی القوم من جانبیه۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ: مطلب ہل الإساء ۃ دون الکراہۃ أو أفحش منہا‘‘: ج ۲، ص:576)

"وينبغي للإمام أن يقف بإزاء الوسط، فإن وقف في ميمنة الوسط أو في ميسرته فقد أساء لمخالفة السنة. هكذا في التبيين".(الفتاوى الهندية: كتاب الصلاة،الباب الخامس في الإمامة وفيه سبعة فصول،  الفصل الخامس في بيان مقام الإمام،والمأموم،ج:1،ص:89،ط،:رشيدية)


فتویٰ نمبر : 9972/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں