بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زیر تعمیرفلیٹ میں عقد استصناع پر اشکال کا جواب


سوال

حضرات آپ نے فلیٹ بننے سے پہلے خریدوفروخت کو عقد استصناع میں داخل کر کے جواز کا فرمایا ہے ۔ اس سلسلے میں ایک گذارش ہے کہ استصناع عام زبان میں آرڈر کرنے کو کہتے ہیں یعنی خریدار کے کہنے پر وہ چیز بنائی جائے جیسے گاڑی بریانی جوتے وغیرہ ۔ جبکہ فلیٹ تو بلڈر نے بنانا ہی ہوتا ہے چاہے کوئی شروع میں نہ بھی آئے یہ لوگ صرف اپنے پیسے بچانے اور خریدار کے پیسے لگانے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں اگر تعمیر کسی وجہ سے رک جائے تو ہمارا پیسہ محفوظ رہے ۔ دوسرے یہ کہ استصناع میں خریدار کہتا ہے کہ فلاں فلاں طرح چیز چاہیے جبکہ فلیٹ وغیرہ کی تو بنانے کی ترتیب پہلے سے طے ہوتی ہے ۔ خریدار اس میں ذارا تبدیلی نہیں کراسکتا ۔ یہاں تک کہ ایک کمرہ بلکہ مطبخ و بیت الخلاء کی ترتیب بھی نہیں بدلواسکتا ۔پھر اس کو استصناع میں کیسے داخل کیا گیا ہے۔غور و فکر کی گنجائش ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ فلیٹ بننے سےپہلے اس کی خرید و فروخت عقد استصناع کی صورت میں جائز ہے،اوراس کے جواز کے لئے معقود علیہ(مبیع)  کی جنس ، نوع، صفت ، مقدار کا معلوم ہونا اور اس  پر لوگوں کا تعامل ہونا شرط ہے۔ جب کہ اس کے علاوہ عقد استصناع میں یہ ضروری نہیں کہ خریدار کے آرڈر دینے کے بعدہی  چیز بنائی جائے اور نہ یہ ضروری ہے کہ مستصنع صانع کے مجوزہ نقشہ میں تبدیلی کرے چنانچہ  صانع عقد میں طے شدہ جنس،نوع اوروصف کے موافق  پہلے سے بنی  ہوئی چیز یا کسی اور کی بنائی ہوئی چیز بھی پیش کر سکتا ہے۔ لہذا یہاں یہ اشکال درست نہیں کہ چونکہ فلیٹ بلڈر نے بنانا ہی ہوتا ہےاور اس کی ترتیب پہلے سے طے ہوتی ہےاس لیے اس میں استصناع درست نہ ہو۔

 

هو لغة ‌طلب ‌الصنعة أي أن يطلب من الصانع العمل۔۔۔ (فإن جاء) الصانع بمصنوع غيره أو بمصنوعه قبل العقد فأخذه (صح)۔(رد المحتار، باب السلم،مطلب في الاستصناع،ج:7،ص:476،474)

وفي البدائع من شروطه بيان جنس المصنوع ونوعه وقدره وصفته وأن يكون مما فيه تعامل۔ (رد المحتار،مطلب فى الاستصناع، ج:7،ص:473) 


فتویٰ نمبر : 3516/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں