بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

زکوٰۃ سے بچنے کے لئے حیلہ اختیار کرنا


سوال

اگر کوئی شخص حیلہ سے اپنے چاندی کو سونے میں تبدیل کروالے اور سونا ساڑھے سات تولہ نہ ہو اور اسکے پاس نقدی بھی نہ ہو تو ایسے شخص پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟

جواب

   واضح رہے کہ اگر زکوٰۃ واجب نہ ہوئی ہوتوزکوٰۃ سے بچنے کے لئے حیلہ اختیار کرنا مفتیٰ بہ قول کے مطابق   مکروہ ہے، البتہ ایک مرتبہ زکوٰۃ واجب ہوجائے تو اس کے بعد بہر صورت زکوٰۃ دینا واجب ہوجاتاہےاور اس سے بچنے کے لئے کوئی حیلہ اختیار نہیں کیا جاسکتا۔

    صورت مسؤلہ میں اگر سال گزرنے سے چاندی میں  زکوٰۃ واجب ہوئی ہو تو اس سے بچنے کے لئے حیلہ کے طور پر اس کو سونے   میں تبدیل کرنے سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوتی  البتہ اگر زکوٰۃ  ابھی تک واجب   نہ ہوئی ہو اور سال گزرنےسے پہلےاس چاندی کو سونے میں تبدیل کیاگیا اور سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہواور ساتھ نقدی بھی نہ ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہ ہوگی البتہ زکوٰۃ سے بچنے کی خاطراس طرح کرنا کراہت سے خالی نہیں۔

 

"الاحتيال لمنع وجوب الزّكاةلا بأس به، وقال بعضه:هو مكروه،وفيه إثم،و في المنظومة في مقالة أبي يوسف و محمد _رحمهما الله_:والاحتيال لإمتناع الشفعةأو الزكاة مطلق في الشريعة، وفي المصفىىّٰ:والفتوىٰ في الشّفعة على قول أبي يوسف وفي الزكاة على قول محمد. وفي الفتاوى العتابيه:لا يحلّ لإسقاط الزكاة بعد الوجوب.(الفتاوى التا تارخانِيه،كتاب الزكاة،الفصل الحادي عشرفي الاسباب المسقطه للزكاة،ج:3 ،ص:237)

 "قوله:(بعد الحول):أما قبله لو استهلكه قبل تمام الحول فلا زكاةعليه لعدم النيّة،وإذا فعله حيلةًلدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السّائمة باٰخرأو أخرجه عن ملكه ثم أدخله فيه،قال أبو يوسف رحمه الله:لا يكره؛لأنّه امتناع عن الوجوب...، وقال محمّدرحمه الله:يكره...، وقيل:الفتوىٰ في الشّفعة على قول أبي يوسف وفى الزكاةعلى قول محمد، وهذا تفصيل حسن.(ردّالمحتارعلى الدّرالمختار، كتاب الزكاة،باب زكاةالغنم،ج:3،ص:208)


فتویٰ نمبر : 9954/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں