بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

حجرہ اورمکان کےتبادلہ میں وعدہ بیع کی ایک صورت


سوال

واقعہ یوں ہے کہ تین بھائیوں کی اولاد نے باہمی رضامندی سے مکان و جائیداد تقسیم کی، ایک بھائی کی صرف تین بیٹیاں تھیں اس کے حصے میں جو مکان آیا اس کے عقب میں بَر لبِ سڑک ایک حجرہ بھی شامل تھا، تھوڑے عرصے بعد ایک بھائی کا بیٹا جو اپنے چچا کا داماد بھی تھا اپنی زوجہ کے ہمراہ چچا کے پاس گیا چچی بھی موجود تھی اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ بیٹھک جو 13 مرلے پر محیط ہے ہم اسی طرح باقی رکھیں، لہذا یہ ہمیں دے دیں دوسری طرف جو آپ کی دو کنال زمین ہے اس میں اتنے ہی رقبہ یعنی تیرہ مرلے پر ہم آپ کو مکان بنا کر دے دیں گے، چچا نے حامی بھر لی۔ واضح رہے کہ اس وقت فی مرلہ قیمت تقریباً چار لاکھ روپے تھی اس حساب سے حجرہ رقبہ بمع عمارت کی قیمت تقریباً 75 لاکھ روپے بنی، کچھ عرصہ گذرنے کے باوجود حجرہ کے بدلے مکان نہیں بنایا گیا تو چچا نے کہا کہ آپ مکان نہیں بناتے ہیں حجرہ کو گھر میں شامل کرتا ہوں، چنانچہ اُنہوں نے دیوار تعمیر کر لی۔ بھتیجا دوبارہ چچا کے پاس آیا کہ اب ضرور متبادل گھر بناکر دوں گا آپ یہ بیٹھک مجھے دی دیں، چونکہ چچا تھا راضی ہوگیا۔ایک سال گذرنے کے بعد چچا اللہ کو پیارا ہوگیا۔ وفات کے دو سال گزرگئے مگر مکان کی بنیاد تک نہ بنی۔ اب جب بات زیرِ بحث آئی تو بھتیجہ مکان بنوا کر دینا چاہتا ہے، پہلے مرلہ کی قیمت چار لاکھ  کے حساب سے حجرہ کی قیمت 75 لاکھ بنتی تھی اب فی مرلہ 12 لاکھ سے 15 لاکھ کا ہے تو حجرہ لاکھوں سے تجاوز کرکے کروڑوں کو پہنچ گیا لیکن چونہ بات متبادل مکان بنوانے کی طے ہوئی تھی اب ظاہر ہے کہ مکان بنوانے پر 75 لاکھ سے زیادہ ہی رقم خرچ ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ بھتیجا مکان بنوانے پر صرف 75 لاکھ روپے خرچ کرنے کا پابند ہوگا یا کہ اگر تعمیر پر خرچ زیادہ آئے تو وہ زائد خرچہ دینے کا بھی پابند ہوگا؟

جواب

            واضح رہے کہ مستقبل کی  طرف تبادلہ یعنی خرید وفرو خت کو منسوب کرنا "وعدہ بیع" کہلاتا ہے۔ وعدہ بیع سے نہ فروخت کنندہ ثمن(مثلا:رقم)کا مالک بنتا ہے اور نہ ہی خریدار مبیع(فروخت کی گئی چیز)کا مالک بنتا ہے۔ اس طرح وعدہ کرنے کے بعداس وعدہ کی پاسداری کرنا شرعی واخلاقی فریضہ ہے، تاہم عقد کے لیے مستقل ایجاب وقبول  کیا جائے گا۔ نیز کسی واقعی عذر کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرنے کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔

                سوال میں مذکورصورتِ حال سے بظاہر معلوم ہوتا ہےکہ چچا نے بھتیجے کے ساتھ  باقاعدہ بیع کا عقد نہیں  کیا ہے اورنہ ہی سوال میں اس کی صراحت ہے، بلکہ تبادلہ کا وعدہ کیا ہے کہ اگر اُس نے متبادل جگہ مکان بنواکردیا تو حجرہ بھی دیا جائےگا،نیز حسبِ بیان بھتیجے نے اس کی زندگی میں مکان بنوا کر حوالہ بھی نہیں کیا ہے اورچچا نے دیوار تعمیر کرکےحجرہ کو گھر میں شامل بھی کیا ہے۔ اِن سب سے وعدہ بیع کی صورت مفہوم ہوتی ہے، لہذا اگر واقعی ان کے درمیان عقدِ بیع یعنی تبادلے کی حتمی بات نہ ہوئی ہو توایسی صورت میں چچا کی فوتگی کے بعد اس کی مملوکہ مال وجائیدادپر میراث کا حکم جاری ہوگا اورورثاء کی ملکیت شمار ہوگی، جس کو وہ فروخت بھی کر سکتے ہیں اورمرحوم کی طرف سے کیے گئے وعدہ کی پاسداری  میں مکان بنوانے کے عوض تبادلہ بھی کر سکتے ہیں اور اپنی ملکیت میں بھی برقراررکھ سکتے ہیں؛ تاہم  فروخت کرنے اوریا متبادل جگہ مکان بنوانے کی صورت میں قیمت  طے کرنے کااختیار ورثاء کو حاصل ہوگا۔

 

قال اللہ تعالی:وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا۔ (الإسراء: 34)

عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اضمنوا لي ستا من أنفسكم أضمن لكم الجنة: اصدقوا إذا حدثتم، وأوفوا إذا وعدتم، وأدوا إذا اؤتمنتم، واحفظوا فروجكم، وغضوا أبصاركم، وكفوا أيديكم "۔ (السنن الكبرى للبيهقي، باب ما جاء في اللترغيب في أداء الأمانات، ص:6،ص:288)

قال رحمه الله ( لا ينعقد بلفظين .أحدهما الماضي ، والآخر بلفظ المستقبل ) وإنما لا ينعقد بذلك لأن النبي صلى الله عليه وسلم استعمل فيه لفظ الماضي الذي يدل على تحقق وجوده فكان الانعقاد مقتصرا عليه ، ولأن لفظ المستقبل إن كان من جانب البائع كان عدة لا بيعا ، وإن كان من جانب المشتري كان مساومة۔ (العناية شرح الهداية، كتاب البيوع، ج:3،ص:45)


فتویٰ نمبر : 3502/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں